Urdu book · اظہارِ دین

مغربی تہذیب کا مسئلہ

Urdu book, p. 299

By Maulana Wahiduddin Khan

مغربی تہذیب کا مسئلہ امت مسلمہ کی تاریخ میں بہت سے مسئلے پیش آئے جن کو فتنه کہا جاتا ہے۔ مثلاً باطنیت کا فتنہ، وحدت وجود کا فتنہ، انکار حدیث کا فتنہ، قادیانیت کا فتنہ، وغیرہ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی ماضی میں اس قسم کا کوئی فتنہ پیدا ہوا تو بہت سے علما اٹھے جنھوں نے قرآن اور سنت کی روشنی میں اس کا بھر پور رد کیا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ بہت سے مسلمان جو ان فتنوں سے متاثر ہوئے تھے، انھوں نے ان سے توبہ کی اور وہ امت مسلمہ کی مین اسٹریم (mainstream) میں شامل ہو گئے۔ تاریخ مزید بتاتی ہے کہ ان موقعوں پر ایسا نہیں ہوا کہ ایک فتنہ دوبارہ ایک نئے فتنے کی شکل اختیار کرلے، یعنی جو لوگ ان فتنوں سے ذہنی طور پر متاثر ہوئے تھے، انھوں نے اپنی اصلاح کرلی اور ارباب فتنه سے الگ ہو کر وہ اسلامی زندگی گزارنے لگے۔ موجودہ زمانے میں بھی اسی قسم کا ایک ”فتنه“ پیش آيا۔ یہ مغربی تہذیب کا فتنہ تھا۔ یہ فتنہ ابتدائی طور پر یورپ کی نشاة ثانیہ (Renaissance) کے بعد شروع ہوا اور بیسویں صدی عیسوی میں اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ اُس وقت بہت سے عرب اور غیر عرب مصلحین پیدا ہوئے جنھوں نے مغربی تہذیب کے خلاف زبان وقلم کے ذریعے جہاد شروع کیا۔ یہ جہاد بظاہر کامیاب رہا۔ بہت سے مسلم نو جوان جو مغربی تہذیب سے متاثر ہوئے تھے، وہ اس سے تائب ہو گئے۔ اس کامیابی کا عمومی طور پر اعتراف کیا گیا۔ حتیٰ کہ ان مصلحین میں سے کئی افراد ایسے تھے جن کو بڑے بڑے القاب دیے گئے۔ مثلاً مفکر اسلام، معمار ملت، عہد ساز شخصیت، مجدّدِ دوراں، وغیرہ۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ قدیم فتنوں کے مقابلے میں جدید فتنے کا معاملہ اپنے حقیقی نتیجہ (result) کے لحاظ سے بالکل مختلف ثابت ہوا، یعنی بظاہر نظری سطح پر خاتمہ کے نتیجے کے اعتبار سے وہ دوبارہ مزید اضافے کے ساتھ زندہ ہو گیا۔ ان مصلحین نے مسلمانوں کی جدید نسلوں کو یہ باور کرایا تھا کہ ــ مغربی تہذیب زہریلے پھل کا ایک درخت ہے۔ جدید تہذیب ایک مسلم دشمن تعلیمی ادارے قتل گاہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تہذیب ہے۔ مغربی تہذیب کے تحت پیدا شدہ مسلمانوں کا تعلق مغربی تہذیب سے بائیکاٹ کا ہونا چاہیے، نہ کہ اس سے تعاون کا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page