Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

کئی میں سے صرف ایک کا انتخاب کریں اور بقیہ کو چھوڑ دیں۔ مثلاً سورج کی روشنی کو لیجیے۔ آنکھ سے دیکھنے میں سورج کی روشنی صرف ایک رنگ کی دکھائی دیتی ہے، لیکن پرزم (prism) سے دیکھنے میں سورج کی روشنی سات رنگوں میں بٹ جاتی ہے۔ اس طرح سورج کی روشنی کے رنگ کے بارے میں ہمارے پاس دو انتخاب (options) ہو گئے۔ اب ہمارے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ دونوں میں سے جس انتخاب میں منطقی وزن زیادہ ہو، ہم اس کو لیں۔ چنانچہ اس معاملے میں سات رنگوں کے نظریے کو مان لیا گیا۔ کیوں کہ وہ زیادہ قوی ذریعے سے ثابت ہو رہا تھا۔ مجبوران منطق مجبورانہ منطق کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ مجبوران منطق میں آدمی کے پاس صرف ایک کا انتخاب (option) ہوتا ہے۔ آدمی مجبور ہوتا ہے کہ اُس ایک انتخاب کو تسلیم کرے۔ کیوں کہ اس میں ایک کے سوا کوئی اور انتخاب سرے سے ممکن ہی نہیں ہوتا۔ مجبورانہ منطق کے معاملے میں صورت حال یہ ہوتی ہے کہ آدمی کو لازمی طور پر ماننا بھی ہے، اور ماننے کے لیے اس کے پاس ایک انتخاب کے سوا کوئی دوسرا انتخاب موجود نہیں۔ مجبورانہ منطق کی ایک قریبی مثال ماں کی مثال ہے۔ ہر آدمی کسی خاتون کو اپنی ماں مانتا ہے۔ وہ مجبور ہے کہ ایک خاتون کو اپنی ماں تسلیم کرے۔ حالاں کہ اُس نے اپنے آپ کو اُس خاتون کے بطن سے پیدا ہوتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔ اِس کے باوجود وہ اپنی ماں کو یقین کے ساتھ ماں مانتا ہے۔ یہ ماننا، مجبورانہ منطق کے اصول کے تحت ہوتا ہے۔ ایسا وہ اس لیے کرتا ہے کہ اس معاملے میں اُس کی پوزیشن یہ ہے کہ اس کو ایک خاتون کو ہر حال میں اپنی ماں ماننا ہے۔ اِسی لیے وہ اپنی ماں کو یقین کے ساتھ اپنی ماں تسلیم کر لیتا ہے۔ کیوں کہ اس کیس میں اُس کے لیے کوئی دوسرا انتخاب موجود نہیں۔ خدا کے وجود کو ماننے کا تعلق بھی اِسی قسم کی مجبورانہ منطق سے ہے۔ خدا کے وجود کے پہلو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page