مجبوران منطق
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
سے اصل قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس معاملے میں ہمارے لیے کوئی دوسرا انتخاب ہی نہیں۔ ہم مجبور ہیں کہ خدا کے وجود کو مانیں۔ کیوں کہ اگر ہم خدا کے وجود کو نہ مانیں تو ہمیں کائنات کے وجود کی، اور خود اپنے وجود کی نفی کرنی پڑے گی۔ چوں کہ ہم اپنی اور کائنات کے وجود کی نفی نہیں کر سکتے، اس لیے ہم خدا کے وجود کی بھی نفی نہیں کر سکتے۔ انسان کا وجود، خدا کے وجود کا ثبوت وسیع کائنات میں صرف انسان ہے جو خدا کے وجود کا انکار کرتا ہے۔ حالاں کہ انسان کا خود اپنا وجود، خدا کے وجود کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ اگر انسان جیسی ایک ہستی یہاں موجود ہے تو خدا بھی یقینی طور پر موجود ہے۔ انسان کے اندر وہ تمام صفتیں ناقص طور پر موجود ہیں جو خدا کے اندر کامل طور پر موجود ہیں۔ اگر ناقص ہستی کا وجود ہے تو کامل ہستی کا بھی یقینی طور پر وجود ہے۔ ایک کو ماننے کے بعد دوسرے کو نہ ماننا، ایک ایسا منطقی تضاد ہے جس کا تحمل کوئی بھی صاحبِ عقل نہیں کر سکتا۔ ڈیکارٹ (Rene Descartes) مشہور فرنچ فلسفی ہے۔ وہ 1596 میں پیدا ہوا اور 1650 میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کے سامنے یہ سوال تھا کہ انسان اگر موجود ہے تو اس کی موجودگی کا عقلی ثبوت کیا ہے۔ لمبے غور وفکر کے بعد اس نے اس سوال کا جواب ان الفاظ میں دیا— میں سوچتا ہوں، اس لیے میں ہوں : I think, therefore I exist. ڈیکارٹ کا یہ جواب منطقی اعتبار سے ایک محکم جواب ہے۔ مگر یہ منطق، جس سے انسان کا وجود ثابت ہوتا ہے، وہ اس سے بھی زیادہ بڑی بات کو ثابت کر رہی ہے، اور وہ ہے خدا کے وجود کا عقلی ثبوت۔ اس منطقی اصول کی روشنی میں یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ — سوچ کا وجود ہے، اس لیے خدا کا بھی وجود ہے: Thinking exists, therefore God exists.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader