Urdu book · اظہارِ دین

فکری بنیاد کی اہمیت

Urdu book, p. 313

By Maulana Wahiduddin Khan

ملا کہ آپ صحابہ کی صورت میں ایک طاقت ور ٹیم بنائیں ۔ اس طرح آپ نے اور آپ کے اصحاب نے غیر معمولی محنت کے ذریعے وہ کام انجام دیا جس کو قرآن کی مذکورہ آیت میں اظہارِ دین کہا گیا ہے، یعنی خدا کے دین کو اس کی اصل صورت میں مہرہن کر دینا۔ مگر یہ کوئی سادہ معاملہ نہ تھا۔ لوگوں کے درمیان اس کی قبولیت کے لیے ضروری تھا کہ اس کے لیے موافق فکری بنیاد (intellectual base) موجود ہو۔ ہزاروں سال کے مذہبی بگاڑ کے نتیجے میں لوگوں کے درمیان یہ موافق فکری بنیاد موجود نہ تھی ، اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ پیغمبرِ اسلام نے اپنے زمانے میں کامیابی کے ساتھ دینِ خداوندی کو اس کی اصل صورت میں قائم کیا، مگر ایک محدود مدت کے بعد خود امت مسلمہ کے درمیان مذہب کا قدیم تصور واپس آگیا۔ یہ محدود مدت امت کی ابتدائی تین نسلوں تک باقی رہی۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کو ایک حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اِنَّ النَّاسَ دَخَلُوا فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجاً وَسَيَخْرُجُونَ مِنْهُ أَفْوَاجاً (مسند احمد، رقم الحدیث : 14696)۔ یعنی، لوگ فوج در فوج خدا کے دین میں داخل ہوئے اور عنقریب وہ فوج در فوج خدا کے دین سے نکل جائیں گے۔ اس حدیث رسول میں جو پیشین گوئی کی گئی ہے، وہ محدود طور پر صرف مکہ یا عرب کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ وہ پوری تاریخ کے بارے میں ہے۔ اصل یہ ہے کہ اسلام نے دینِ خداوندی کی جو تصویر پیش کی تھی، وہ ایک انقلابی تصویر تھی۔ اُس زمانے میں مذہب کے بارے میں جو عمومی شاکلہ پایا جاتا تھا، وہ اس کے مطابق نہ تھا۔ اس لیے ابتدائی تین نسلوں کے بعد قدیم مذہبی شاکلہ عملاً دوبارہ لوگوں کے درمیان واپس آگیا۔ دوبارہ ایسا ہوا کہ خدا کا دین اپنی اصل صورت کے بجائے ایک بدلی ہوئی صورت پر قائم ہو گیا۔ اسلام کا نام اور اسلام کی اصطلاحیں ضرور باقی رہیں، لیکن اسلام کی حقیقت تقریباً غیر موجود ہو گئی۔ یہی مطلب ہے اُس حدیثِ رسول کا جس میں بتایا گیا ہے کہ بعد کے زمانے میں اسلام کا صرف نام باقی رہے گا اور قرآن کا صرف رسم الخط: ”لَا يَبْقَى مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا اسْمُهُ، وَلَا يَبْقَى مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا رَسْمُهُ“۔ (شعب الإيمان، للبيهقي، حدیث نمبر 1763)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page