Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 312

By Maulana Wahiduddin Khan

اظہار دین اللہ کا ایک خصوصی منصوبہ قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَھِیْدًا (28: 48)۔ یعنی، اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا، تا کہ وہ اُس کو تمام ادیان پر غالب کر دے اور اللہ کافی گواہ ہے۔ یہ آیت قرآن کی تین سورتوں میں آئی ہے۔ ایک سورۃ میں مزید یہ الفاظ آئے ہیں: وَیَابَی اللّٰہُ اِلَّا اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَہٗ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ (9: 32)۔ یعنی، اور اللہ اپنی روشنی کو پورا کئے بغیر ماننے والا نہیں، خواہ منکروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ قرآن کی اِس آیت میں ’ہدیٰ‘ سے مراد آئیڈیالوجی (divine ideology) ہے اور ’دین‘ سے مراد اِس آئیڈیالوجی پر مبنی طریقِ زندگی (way of life) ہے۔ اللہ نے ہر دور میں پیغمبروں کے ذریعے ہدایت اور دین بھیجا، لیکن اس کے بعد انسان اِس میں تبدیلی کرتا رہا، یہاں تک کہ دین خداوندی کا اصل ورژن (original version) باقی نہیں رہا، بلکہ دین خداوندی کے نام پر ایک خود ساختہ انسانی ورژن وجود میں آگیا۔ اس کے بعد اللہ نے یہ فیصلہ کیا کہ ابدی طور پر دین خداوندی کا صحیح ورژن وجود میں آئے اور اس کو تاریخ میں پوری طرح محفوظ کر دیا جائے ۔ تمام ادیان پر اظہار دین کا مطلب کسی قسم کا سیاسی غلبہ نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دین خداوندی کی تصویر بے آمیز صورت میں انسان کے سامنے آجائے۔ اِسی طرح اتمامِ نور کا مطلب بھی کسی سیاسی نظام کا نفاذ نہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان خدائی دین کی تصویر کو بگاڑنا چاہتا ہے، مگر اللہ کا یہ حتمی فیصلہ ہے کہ وہ خدائی دین کو اس کی اصل صورت میں محفوظ کر دے۔ اللہ نے انسان کو مکمل آزادی عطا کی ہے۔ اللہ نے اپنی سنت کے مطابق، انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے حفاظتِ دین کے اس منصوبے کو انجام دیا۔ فکری بنیاد کی اہمیت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں ہوا۔ آپ کو یہ موقع

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page