متوازی عمل
Urdu book, p. 318
By Maulana Wahiduddin Khan
رائج ہوئے، مگر ان طریقوں کے ذریعے قدیم زمانے کے لوگوں کو بھی حقیقی معنوں میں معرفتِ حق کا تجربہ نہیں ہوا، کیوں کہ دل صرف گردشِ خون کا ذریعہ تھا۔ معرفت صرف تفکر اور تدبر کے ذریعے حاصل ہوسکتی ہے، جس کا مرکز انسان کا دماغ ہے۔ دل سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ رسول اور اصحابِ رسول کے مختصر زمانے کے بعد خود امتِ مسلمہ میں یہی دل پر مبنی تصورِ معرفت دوبارہ لوٹ آیا۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے ہزار سال کے دوران امتِ مسلمہ حقیقی معرفت سے تقریباً محروم رہی۔ موجودہ زمانے میں جدید میڈیکل سائنس کے ذریعے جو نیا دور آیا، اُس نے پہلی بار یہ کیا کہ دل پر مبنی معرفت کے افسانہ (myth) کو ختم کر دیا۔ اب تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہو گیا کہ مبنی بر ذہن (mind-based) معرفت کو ڈیولپ کیا جائے اور معرفتِ الہی کے اعلیٰ درجات تک پہنچنے کی کوشش کی جائے۔ اس اعتبار سے، جدید میڈیکل سائنس قدیم نظریے کی تصحیح کی حیثیت رکھتی ہے۔ 2۔ قدیم زمانے میں ساری دنیا میں مطلق العنان بادشاہت (despotism) کا طریقہ رائج تھا۔ اس سیاسی کلچر کے تحت ساری دنیا میں مذہبی جبر کا کلچر عام تھا۔ جدید مغربی تہذیب کے تحت پہلی بار ایسا ہوا کہ دنیا میں جمہوریت کا زمانہ آیا۔ جمہوریت ایک اعتبار سے، سیاسی طاقت کی عدم مرکزیت (decentralization) کا کلچر ہے۔ اس کلچر کے تحت مذہب کے معاملے کو سیاسی اقتدار سے الگ کر دیا گیا۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار مذہبی آزادی کو ایک مسلمہ قومی اصول (international norm) کے طور پر مان لیا گیا اور اقوامِ متحدہ (UNO) کے تحت تمام قوموں نے اس کی متفقہ تصدیق کر دی۔ اسلام ایک دعوتی مشن ہے اور اسلام کے دعوتی مشن کی عالمی تکمیل کے لیے ضروری تھا کہ دنیا میں مذہبی آزادی کو ایک مسلمہ بین القوامی اصول کے طور پر مان لیا گیا ہو۔ یہ واقعہ پہلی بار مغربی تہذیب کے دور میں کامل طور پر انجام پایا ہے۔ 3۔ قدیم زمانے میں مذہب کی بنیاد صرف عقیدہ (belief) ہوا کرتا تھا۔ انسان ایک عقلی وجود (rational being) ہے۔ ضرورت تھی کہ انسان کو ایسا مذہب دیا جائے جو اس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader