متوازی عمل
Urdu book, p. 319
By Maulana Wahiduddin Khan
عقلی ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ لیکن اس مقصد کے لیے عقلی ڈیٹا (rational data) درکار تھا جو کہ قدیم زمانے میں دستیاب نہ تھا۔ مغربی تہذیب کے تحت پیدا ہونے والی سائنس نے فطرت (nature) میں تحقیق کے ذریعے یہ عقلی ڈیٹا فراہم کیا۔ اِس طرح تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ دینِ خداوندی کے عقائد کو عقلی بنیاد (rational ground) پر قابل فہم (understandable) بنایا جا سکے۔ اِس حقیقت کا اعلان قرآن مجید میں پیشگی طور پر ان الفاظ میں کیا گیا تھا: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی، عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ قرآن کی اِس آیت میں ’آفاق اور انفس‘ سے مراد تمام وہ مادی اور غیر مادی تخلیقات ہیں جو وسیع کائنات میں پائی جاتی ہیں۔ اس پورے مجموعے کو فطرت (nature) کہا جاتا ہے۔ فطرت کی اس دنیا میں بے شمار ربانی نشانیاں (signs of God) موجود تھیں۔ ضرورت تھی کہ ان نشانیوں کو دریافت کیا جائے، تا کہ امر حق خود انسانی مسلمات کی بنیاد پر مدلل ہو سکے۔ خدائی نشانیوں کی ان فولڈنگ کا یہ کام ہزاروں سال سے نہیں ہوا تھا۔ موجودہ زمانے میں مغربی تہذیب نے پہلی بار سائنسی تحقیقات کے ذریعے ان نشانیوں کو کھولا اور اُن کو انسان کے لیے ایک معلوم واقعہ بنایا۔ یہ موافق دلائل فطرت (nature) میں آیاتِ الہی کے طور پر موجود تھے، وہ مخفی حالت میں تھے۔ مغربی سائنس نے قوانین فطرت کے نام سے جن حقائق کو دریافت کیا ہے، وہ دراصل یہی دلائل ہیں۔ اِس کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ اسلام کے علم کلام (theology) کو قیاسات کے بجائے برہانیات کی بنیاد پر قائم کی جائے۔ 4۔ قرآن ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اترا۔ اُس وقت قرآن میں یہ کہا گیا تھا کہ: تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا (25:1)۔ یعنی، بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تا کہ وہ جہان والوں کے لیے ڈرانے والا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader