متوازی عمل
Urdu book, p. 325
By Maulana Wahiduddin Khan
بسنے والے ہر انسان کے لیے یہ ممکن ہو جائے گا کہ وہ اپنی جیب سے اسمارٹ فون نکالے اور اس کے ایک سوچ کو ٹچ کرے اور پورے قرآن کا ترجمہ اس کی اپنی قابل فہم زبان میں اس کے سامنے آجائے۔ دعوت کا یہ عالمی ذریعہ آج مغربی سائنس کی بنا پر عملاً ایک واقعہ بن چکا ہے۔ غالباً دورِ آخر کا یہی وہ دعوتی امکان ہے جس کا ذکر بطور پیشین گوئی ایک حدیث رسول : لَا يَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ كَلِمَةَ الْإِسْلَامِ بِعِزٍّ عَزِيزٍ أَوْ ذُلٍّ ذَلِيلٍ (مسند احمد، حدیث نمبر 23814) میں کیا گیا ہے۔ یعنی، دنیا کے تمام چھوٹے اور بڑے گھروں میں اللہ تعالیٰ اسلام کا کلمہ (کلمۃ الاسلام (پہنچادے گا، خواہ انسان چاہے یا نہ چاہے۔ اس حدیث میں ’کلمہ اسلام‘ سے مراد قرآن ہے۔ یہ ایک قابلِ غور بات ہے کہ حدیث میں ’إِدْخَالُ الْكَلِمَةِ فِي كُلِّ الْقُلُوبِ‘ (ہر دل میں کلمۂ اسلام کا داخل ہونا) کا لفظ نہیں آیا ہے، بلکہ حدیث میں ’إِدْخَالُ الْكَلِمَةِ فِي كُلِّ الْبُيُوتِ‘ (ہر گھر میں کلمۂ اسلام کا داخل ہونا) کا لفظ آیا ہے۔ اس کا مطلب واضح طور پر یہ ہے کہ ایسا نہیں ہوگا کہ کرۂ ارض پر بسنے والے تمام لوگ اسلام میں داخل ہو جائیں، بلکہ جو واقعہ ہوگا، وہ یہ کہ ہر چھوٹے بڑے گھر میں جہاں کوئی انسان رہتا ہے، وہاں قرآن داخل ہو جائے گا، خواہ انسان چاہے یا نہ چاہے۔ مذکورہ حدیث کے آخر میں عزت اور ذلت کے الفاظ اپنے لفظی معنی میں نہیں ہیں، بلکہ وہ اسی معنی میں ہیں کہ آدمی چاہے یا نہ چاہے، ہر حال میں ایسا ہوگا کہ خدا کا کلام اس کے گھر میں داخل ہو جائے گا— انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون کی ایجاد کے بعد یہی واقعہ اپنی کامل صورت میں عملاً ظہور میں آگیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader