Urdu book · اظہارِ دین

متوازی عمل

Urdu book, p. 328

By Maulana Wahiduddin Khan

اس منصوبے کو سمجھ نہ سکے۔ حضرت ابراہیم کی امامت کا معاملہ علماءِ مذاہب کے لیے ایک پراسرار معاملہ بنا رہا۔ مذاہب ثلاثہ کے علما اس معاملے میں کنفیوژن کا شکار ہیں۔ وہ اس واقعے کی کوئی ایسی توجیہہ دریافت نہ کر سکے جو اس معاملے میں اُن کو یقین پر کھڑا کرنے والی ہو۔ انھوں نے اپنے ذہنی سانچہ (mind-set) کے اعتبار سے بعض توجیہات کیں، مگر انھوں نے دیکھا کہ ان توجیہات کو تاریخ کی تصدیق حاصل نہیں ہو رہی ہے، اس لیے وہ اس معاملے میں کنفیوژن کا شکار ہو کر رہ گئے۔ مثلاً کچھ لوگوں نے کہا کہ حضرت ابراہیم کے ذریعہ دنیا کو توحید کی مستند آئڈیالوجی ملی۔ مگر یہ بات حقیقت واقعہ کے خلاف ہے، کیوں کہ دنیا کو توحید کی آئڈیالوجی قرآن کے ذریعے حاصل ہوئی، نہ کہ صحف ابراہیم (87:19) کے ذریعے، جو کہ عملاً اب گم شدہ صحائف کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کچھ لوگوں نے یہ کہا کہ حضرت ابراہیم کے ذریعے ساری دنیا میں خدائی حکومت قائم ہوئی، مگر تاریخ میں ایسے کسی واقعے کا ذکر نہیں جب کہ ساری دنیا میں خدائی حکومت قائم ہوا اور حضرت ابراہیم اس صدر کی حیثیت رکھتے ہوں، وغیرہ۔ اس قسم کی تمام توجیہات لوگوں کے اپنے ذہن کی پیداوار ہیں، اُن کا خدا کے نقشہ تخلیق سے کوئی تعلق نہیں۔ اس معاملے میں خدا کا منصوبہ کیا تھا، اس کو قرآن اور حدیث کے مطالعے سے معلوم کیا جاسکتا ہے۔ قرآن کی سورۃ المائدہ میں ایک آیت آئی ہے جس کو اکمال دین (5:3) کی آیت کہا جاتا ہے۔ اس آیت میں اکمال دین سے مراد شرعی احکام کی فہرست کا مکمل کرنا نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد اہل دین کے لیے خوف کی حالت کا خاتمہ ہے۔ یہی وہ بات ہے جس کو آیت میں ان الفاظ میں کہا گیا ہے: اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا مِنْ دِیْنِکُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ (5:3)۔ یعنی، آج منکرین تمھارے دین کی طرف سے مایوس ہو گئے، پس تم اُن سے نہ ڈرو، صرف مجھ سے ڈرو۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں کسی وقتی واقعے کا ذکر نہیں ہے، اس میں ایک تاریخی حقیقت کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page