Urdu book · اظہارِ دین

متوازی عمل

Urdu book, p. 329

By Maulana Wahiduddin Khan

اعلان کیا گیا ہے۔ یہ آیت حجۃ الوداع (10 ہجری) کے موقع پر نازل ہوئی۔ اس آیت کا نزول دراصل تاریخ کے ایک دور کے خاتمے اور تاریخ کے دوسرے دور کے آغاز کا اعلان تھا۔ یہ اعلان اب پوری طرح واقعہ بن چکا ہے۔ اگر چہ اہل مذاہب اپنے خود ساختہ ذہن کی بنا پر اس حقیقت سے بے خبر ہے۔ اسباب اور انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے جو خدائی منصوبہ بندی کی گئی، اس کا خاص نشانہ یہ تھا کہ دنیا میں مذہبی جبر کا مکمل خاتمہ ہو جائے، ہر انسان کو یہ موقع ہو کہ وہ مذہب کے معاملے میں اپنے انتخاب (choice) کے لیے مکمل طور پر آزاد ہو جائے۔ یہ منصوبہ بندی مکمل طور پر ایک غیر سیاسی منصوبہ بندی تھی۔ اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہ تھا، نہ نظری اعتبار سے اور نہ عملی اعتبار سے۔ حضرت ابراہیم کے ذریعے جو منصوبہ بندی کی گئی، اس کے دو پہلو تھے— ایک یہ تھا کہ مطلوب صورت حال کا ایک ابتدائی نمونہ (prototype) تیار کرنا۔ اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ میں ایسا عمل (process) جاری کرنا جو آخر کار ایک نئے دور کو وجود میں لائے، جب کہ مذکورہ ابتدائی اور وقتی نمونہ ایک عالمی انقلاب کی صورت اختیار کرلے اور اس طرح تمام دنیا کے انسانوں کے لیے عمومی طور پر اور مستقل طور پر یہ امکان کھل جائے کہ وہ کسی بھی جبر کے بغیر ہر قسم کی مذہبی سرگرمیوں کے لیے آزاد ہوں۔ اپنے ذاتی عقیدے کے معاملے میں بھی اور دوسروں کے درمیان اپنے عقیدے کی اشاعت کے معاملے میں بھی۔ وہ چیز جس کو اوپر ابتدائی نمونہ (prototype) کہا گیا ہے، اس کی مثال حضرت یوسف کے ذریعے قائم کی گئی ۔ حضرت یوسف، حضرت ابراہیم کے گریٹ گرینڈ سن (great grandson) تھے۔ وہ فلسطین اور شام کے درمیان ایک گاؤں (کنعان) میں پیدا ہوئے۔ اس زمانے میں مصر ایک ترقی یافتہ ملک تھا۔ یہاں ایک خاندان حکومت کرتا تھا، جس کو ہکساس بادشاہ (Hyksos Kings) کہا جاتا ہے۔ حضرت یوسف کے زمانے میں یہاں جو بادشاہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page