Urdu book · اظہارِ دین

متوازی عمل

Urdu book, p. 342

By Maulana Wahiduddin Khan

تاریخ کاربانی سفر قرآن کی ایک آیت، معمولی لفظی فرق کے ساتھ، دوسورتوں، التوبہ(9:32) اور الصف میں آئی ہے۔ سورۃ الصف میں یہ الفاظ ہیں: يُرِيدُونَ لِيُطْفِؤُا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ (61:8)۔ یعنی، وہ چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کی روشنی کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں اور اللہ اپنی روشنی کو پورا کر کے رہے گا، خواہ منکروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ قرآن کی اس آیت کا خطاب محدود طور پر صرف قدیم مکہ یا قدیم مدینہ کے مخالفین سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق پوری انسانی تاریخ کے ربانی سفر سے ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے پچھلے ہزاروں سال کے دوران مختلف مقامات پر اپنے پیغمبر بھیجے، لیکن مخالفین نے اُن کے مشن کو آگے بڑھنے نہیں دیا۔ اب اللہ نے تاریخ میں مداخلت کرتے ہوئے اس مشن کا چارج خود لے لیا ہے۔ یہی مداخلت اس بات کی ضمانت ہے کہ خدا کا یہ مشن اپنی آخری تکمیل تک پہنچے، کوئی بھی طاقت اس کے سفر کو روکنے میں کامیاب نہ ہو۔ رسول اور اصحاب رسول کے ذریعے ساتویں صدی عیسوی میں جو انقلاب آیا، وہ اسی فیصلۂ الہی کا نتیجہ تھا۔ اس انقلاب کا سب سے زیادہ انوکھا پہلو یہ تھا کہ وہ تقریباً 35 سال (644-610) کے اندر مکمل ہوگیا۔ انقلاب کا یہ پہلو بے حداہم ہے۔ تاریخ میں دوسرے جو انقلابات پیش آئے، وہ سب اپنی نوعیت کے اعتبار سے، سیاسی انقلابات (political revolutions) تھے، مگر اسلامی انقلاب اس کے برعکس، ایک نظریاتی انقلاب (ideological revolution) تھا۔ اس بنا پر ضروری تھا کہ وہ پہلی نسل (first generation) کے اندر مکمل ہوجائے۔ سیاسی انقلاب کو کئی نسلوں میں مکمل کیا جاسکتا ہے، لیکن نظریاتی انقلاب کا معاملہ یہ ہے کہ وہ یا تو پہلی نسل میں مکمل ہوگا، یا وہ سرے سے مکمل ہی نہ ہوگا۔ بنیادی طور پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے دو دور تھے ؀ ایک تھا، فاؤنڈیشن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page