Urdu book · اظہارِ دین

متوازی عمل

Urdu book, p. 341

By Maulana Wahiduddin Khan

اجتماعی توبہ کی ضرورت یہ صورتِ حال بلاشبہ توبہ کی متقاضی ہے، یعنی منفی سوچ کو ترک کرکے مثبت سوچ کی طرف واپس جانا۔ اب تمام مسلمانوں کے لیے اُس عمل کا وقت آ گیا ہے جس کا حکم قرآن میں ان الفاظ میں دیا گیا تھا: وَتُوْبُوْا إِلَى اللَّهِ جَمِیْعًا اَیُّهَا الْمُوْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (24:31)۔ یعنی، اے ایمان والو، تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو، تا کہ تم فلاح پاؤ۔ قرآن کی اس آیت میں جس چیز کا حکم دیا گیا ہے، اس سے مراد اجتماعی توبہ (collective repentance) ہے ۔ موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ مذکورہ قسم کا منفی ذہن تمام مسلمانوں کا قومی ذہن بن گیا ہے۔ مسلمانوں کی تمام قومی پالیسیاں اسی منفی ذہن کے مطابق بنتی ہیں ۔ اس معاملے میں مسلمان اتنا زیادہ متحد الخیال ہیں جیسے کہ اس معاملے میں تمام مسلمانوں کا اجتماع (consensus) ہو گیا ہو۔ اس وقت سب سے پہلا کام یہ ہے کہ مسلمانوں کے اس عمومی قومی ذہن کو بدلا جائے ۔ یہی موجودہ مسلمانوں کی اصلاح کا نقطہ آغاز ہے۔ اس ذہن کے باقی رہتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان کوئی بھی نتیجہ خیز اصلاحی کام نہیں کیا جا سکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page