Urdu book · اظہارِ دین

متوازی عمل

Urdu book, p. 344

By Maulana Wahiduddin Khan

کو پورے عرب کی ذہنی قیادت (intellectual leadership) کا مقام حاصل تھا۔ مکہ میں ایسے اسباب پیدا ہوئے کہ وہاں کے تمام اعلیٰ ذہن پیغمبرِ اسلام کے ساتھی بن گئے۔ پھر مدینہ کے دونوں قبائل (اوس وخزرج) کے درمیان خونریز جنگ ہوئی۔ اس کے نتیجے میں دونوں قبائل بے حد کمزور ہوگئے۔ اس طرح پیغمبرِ اسلام کو یہ موقع ملا کہ وہ دس سال کے اندر پورے مدینے کو اسلام کے فولڈ میں لاسکیں۔ تمام قبائل کے بتوں کا مرکز بن جانے کی بنا پر عرب کے قبائل کعبہ کو پورے عرب کا مذہبی اور سیاسی مرکز سمجھتے تھے۔ چنانچہ جب مکہ فتح ہوا تو نہایت تیزی سے تمام عرب قبائل نے پیغمبرِ اسلام کی قیادت کو قبول کرلیا۔ اسی طرح اُس زمانے میں عرب کی سرحدوں پر ایک بڑا واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے کا ذکر قرآن کی سورۃ الروم (30) کے آغاز میں موجود ہے۔ وہ یہ کہ اُس زمانے میں عرب کی سرحدوں پر دو بڑے ایمپائر قائم تھے۔ ایک، ساسانی ایمپائر اور دوسرے، بازنتینی ایمپائر۔ عین اُس زمانے میں دونوں کے درمیان فوجی ٹکراؤ ہوا۔ پہلے ساسانی ایمپائر نے رومی ایمپائر کو تباہ کیا۔ اس کے بعد رومی بادشاہ نے اپنی طاقت کو دوبارہ مجتمع کرکے ساسانی ایمپائر پر حملہ کیا اور اس کو تباہ کردیا۔ چنانچہ دونوں ایمپائر بہت زیادہ کمزور ہوگئے۔ اس طرح اصحابِ رسول کو یہ موقع مل گیا کہ وہ نہایت آسانی سے ایشیا اور افریقہ کے درمیان پھیلے ہوئے اس پورے علاقے کو اسلامی علاقے میں شامل کرسکیں۔ تاریخ اسلام: ایک مطالعہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا مشن شروع کیا۔ آپ کی مسلسل جدوجہد سے وہاں ایک ٹیم بنی جس کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ رسول اور اصحابِ رسول کی کوششوں سے ساتویں صدی کے نصف اول میں ایک انقلاب آیا۔ مورخین اعتراف کرتے ہیں کہ یہ تاریخ انسانی کا سب سے بڑا انقلاب تھا۔ مثلاً حال میں برطانیہ سے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے موضوع پر ایک انگریزی کتاب چھپی ہے۔ اُس کا نام یہ ہے: The Prophet Muhammad: A Biography by Barnaby Rogerson, Little, Brown, UK 2003, p. 240

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page