Urdu book · اظہارِ دین

متوازی عمل

Urdu book, p. 345

By Maulana Wahiduddin Khan

برطانوی مصنف راجرسن نے اپنی اس کتاب میں لکھا ہے کہ۔ پیغمبرِ اسلام کو جو عظیم کامیابی حاصل ہوئی، اس کے لحاظ سے وہ بلاشبہ تاریخ کے سپر ہیرو (superhero) تھے۔ تاہم پیغمبر اسلام کی غیر معمولی کامیابی کا اعتراف کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے کہ ان کی یہ کامیابی محض اتفاقی (mere accidental) تھی (صفحہ 4)۔ سیکولر مبصرین عام طور پر اس طرح کے الفاظ بولتے ہیں۔ جس واقعہ کی توجیہ وہ معلوم اسباب کے تحت نہ کر سکیں، اُس کو وہ ”اتفاق“ کا نتیجہ قرار دے دیتے ہیں۔ مگر اتنا بڑا واقعہ جو پوری تاریخ میں واحد استثناء کی حیثیت رکھتا ہو، وہ محض اتفاق کا نتیجہ نہیں ہو سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک خدائی منصوبہ (divine plan) تھا، جو رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے انجام پایا۔ اس کا ظہور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم کے زمانے میں ہوا اور خلافتِ راشدہ کے زمانے میں اس کی تکمیل ہوئی۔ اللہ کا یہ منصوبہ تھا کہ توحید کی بنیاد پر ایک انقلاب برپا کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے قدیم دور میں اللہ نے بہت سے پیغمبر بھیجے۔ مگر ان پیغمبروں کے ذریعے کوئی ٹیم نہیں بنی۔ اس لیے قدیم زمانے میں مطلوب انقلاب بر پا نہ ہو سکا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے ذریعے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ اس منصوبے کے تحت حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بچے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں بسا دیا۔ اس واقعے کی طرف قرآن میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَوٰةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ (14:37)۔ یعنی، اے ہمارے رب، میں نے اپنی اولاد کو ایک بے کھیتی کی وادی میں تیرے محترم گھر کے پاس بسایا ہے۔ اے ہمارے رب، تاکہ وہ نماز قائم کریں۔ پس تو لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کر دے اور ان کو پھلوں کی روزی عطا فرما، تاکہ وہ شکر کریں۔ اس صحرائی ماحول میں لمبی مدت تک توالد و تناسل کے ذریعے ایک جان دار قوم تیار ہوئی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page