اظہارِ دین
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
دیکھتے ہیں تو وہ اِسی مبتلا انسان کے حوالے سے اُس کی توجیہ کرنا چاہتے ہیں۔ چوں کہ اکثر مثالوں میں خوداُسی مبتلا انسان کے اندر اس کی توجیہ نہیں ملتی، اس لیے اس سفرنگ کو لے کر وہ یہ کہنے لگتے ہیں کہ یا تو اس دنیا کا کوئی خدا نہیں، یا اگر خدا ہے تو وہ ظالم اور غیر منصف خدا ہے، مگر یہ انتساب بجائے خود غلط ہے۔ انسان کی زندگی میں جو سفرنگ پیش آتی ہے، اس کا سبب کبھی انسان خود ہوتا ہے اور کبھی اس کے والدین ہوتے ہیں اور کبھی اس کا سبب وہ سماج ہوتا ہے جس میں وہ رہ رہا ہے اور کبھی وسیع تر معنوں میں اجتماعی نظام اُس کا ذمے دار ہوتا ہے۔ اسی کے ساتھ کبھی کوئی سفرنگ فوری سبب سے پیش آتی ہے اور کبھی اس کے اسباب پیچھے کئی پشتوں تک پھیلے ہوئے ہوتے ہیں۔ غلط ریفرنس میں مطالعہ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ شبہ کا سبب، اصل صورتِ حال کا غلط ریفرنس میں مطالعہ ہے، یعنی جس ظاہرے کو انسان کی نسبت سے دیکھنا چاہیے، اُس کو خدا کی نسبت سے دیکھنا۔ حالاں کہ یہ سائنسی حقائق کے سراسر خلاف ہے۔ مثال کے طور پر موجودہ زمانے میں ایڈز (AIDS) کا مسئلہ ایک خطرناک مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر خود طبی تحقیق کے مطابق، یہ انسانی آزادی کے غلط استعمال کا نتیجہ ہے۔ میڈیکل سائنس میں یہ مستقل نظریہ ہے کہ کئی بیماریاں اجداد سے نسلی طور پر منتقل ہوتی ہیں۔ ایسی بیماریوں کو اجدادی بیماری (atavistic disease) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح مختلف قسم کی وبائیں پھیلتی ہیں جس میں ہزاروں لوگ مر جاتے ہیں، یا خرابی صحت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ بھی خود طبی تحقیق کے مطابق، انسان کی اپنی پیدا کردہ ہوتی ہیں۔ دہلی میں معروف لیڈر ڈا کٹر آرن شوری کے صاحب زادے مفلوج ہو کر وہیلی چیئر پر رہتے ہیں۔ اس ”سفرنگ “کا سبب بھی یہ ہے کہ چھوٹی عمر میں امریکا کے ایک اسپتال میں اُن کو غلط انجکشن لگ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader