Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

گیا ، اس بنا پر وہ جسمانی اعتبار سے مفلوج ہو گئے۔ اسی طرح تشدد اور جنگوں کے نتیجے میں بے شمار لوگ مر جاتے ہیں یا ناکارہ ہو جاتے ہیں ، یہ سب بھی انسانی کارروائیوں کی بنا پر ہوتا ہے ، وغیرہ۔ واقعہ یہ ہے کہ انسانی سفر نگ کو نیچر سے منسوب کرنا ، سرتا سرا یک غیر علمی بات ہے۔ سائنس کی تمام شاخوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ نیچر مکمل طور پر خرابیوں سے پاک ہے۔ نیچر اس حد تک محکم ہے کہ اس کی کارکردگی کے بارے میں پیشگی طور پر اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اگر نیچر کے اندر قابل پیشین گوئی کردار نہ ہو تو سائنس کی تمام سرگرمیاں اچانک ختم ہو جائیں گی۔ تقابلی مطالعہ پرابلم آف اول کے اِس معاملے کا علمی مطالعہ کرنے کا پہلا اصول وہ ہے جس کو تقابلی طور پر سمجھنا (in comparision that we understand) کہا جاتا ہے۔ تقابلی مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ مسئلہ محدود طور پر صرف انسانی دنیا کا مسئلہ ہے ، جب کہ انسان پوری کائنات کے مقابلے میں ایک بہت ہی چھوٹے جُز کی حیثیت رکھتا ہے۔ بقیہ کائنات اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ مکمل طور پر ایک بے نقص کائنات (zero-defect world) ہے۔ کائنات میں بے شمار سرگرمیاں ہر آن جاری رہتی ہیں، لیکن اُس میں کہیں بھی کوئی خرابی (evil) دکھائی نہیں دیتی۔ انسانی دنیا میں بیماریاں ہیں، انسانی دنیا میں حادثات ہیں، انسانی دنیا میں ظلم ہے، انسانی دنیا میں کرپشن ہے ، انسانی دنیا میں بے انصافی ہے ، انسانی دنیا میں استحصال ہے ، انسانی دنیا میں لڑائیاں ہیں، انسانی دنیا میں نفرت اور دشمنی ہے ، انسانی دنیا میں سرکشی ہے ، انسانی دنیا میں فسادات ہیں ، انسانی دنیا میں جرائم ہیں ، اس قسم کی بہت سی بُرائیਆਂ انسانی دنیا میں پائی جاتی ہیں ، لیکن انسان کے سوا ، بقیہ کائنات اس قسم کی برائیوں سے مکمل طور پر خالی ہے۔ یہی فرق یہ ثابت کرتا ہے کہ برائی کا مسئلہ (problem of evil) خود انسان کا پیدا کردہ ہے، نہ کہ فطرت کا پیدا کردہ۔ اگر یہ مسئلہ فطرت کا پیدا کردہ ہوتا تو وہ بلاشبہ پوری کائنات میں پایا جاتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page