Urdu book · اظہارِ دین

متوازی عمل

Urdu book, p. 352

By Maulana Wahiduddin Khan

اور دوسری زبانوں میں چھپی ہیں اور اُن کو کسی بھی مسلم کتب خانے میں دیکھا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر چند کتابوں کے نام یہ ہیں: جاهِلِيَّةُ القَرْنِ العِشْرِينِ، مُحَمَّدُ قُطْبُ دار الشروق، القاهره 1993، عدد الصفحات: 292 عالم اسلام دجالی تہذیب کی زد میں ، محمد موسیٰ بھٹو، سندھ نیشنل اکیڈمی ٹرسٹ، صفحات: 188 Islam at the Crossroads, Leopold Muhammad Asad اس قسم کی کتابوں میں مغرب اور مغربی تہذیب کی جو تصویر پیش کی گئی ہے، وہ تمام تر منفی تصویر ہے۔ اس قسم کی کتابوں کا مشترک خلاصہ یہ ہے کہ مغرب اخلاقی پستی کی آخری حد تک پہنچ چکا ہے۔ ان تحریروں کے مطابق، مغرب نام ہے ۔ مادیت اور اباحیت اور ہوس پرستی اور لادینیت کا۔ گویا اہل مغرب کا کیس وہی ہے جس کو حدیث میں 'الرجل الفاجر‘ کہا گیا ہے، یعنی بد کردار اور گناہ گار۔ اب بالفرض اگر یہ درست ہو کہ اہل مغرب کا کیس ”فاجر“ انسان کا کیس ہے، تب بھی مسلم مقررین اور محررین اس معاملے میں کامل طور پر غلط قرار پائیں گے۔ کیوں کہ اس معاملے کا دوسرا معلوم پہلو یہ ہے کہ یہی اہل مغرب ہیں جنھوں نے بے پناہ محنت کے بعد اُن تمام تائیدی چیزوں کو دریافت (discover) کیا جن کا ذکر بطور پیشین گوئی قرآن میں کیا گیا تھا۔ گویا کہ یہی وہ مویڈلوگ ہیں جو حدیث کی مذکورہ پیشین گوئی کا مصداق ہیں۔ ایسی حالت میں، مسلم مقررین اور محررین کا فرض تھا کہ وہ کہتے کہ اہل مغرب کے ”فاجر“ ہونے کے باوجود ہمیں اُن کے اس کنٹری بیوشن کا اعتراف کرنا ہے، کیوں کہ یہی لوگ ہیں جنھوں نے تائیدِ دین کے وہ تمام اسباب مہیا کیے ہیں جو آج ہمارے لیے دینِ خداوندی کی نسبت سے بے حد ضروری ہیں۔ یہ اسباب ہمارے لیے شکر اور معرفت کا اعلیٰ آئٹم ہیں اور اسی کے توسط سے پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ دعوت الی اللہ کے کام کو عالمی سطح پر انجام دیا جاسکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page