Urdu book · اظہارِ دین

متوازی عمل

Urdu book, p. 351

By Maulana Wahiduddin Khan

آیا تھا۔ عالمی کمیونیکیشن کے ذرائع موجودہ زمانے میں پہلی بار اہل مغرب نے دریافت کیے۔ یہ اہل مغرب کی طرف سے پیغمبرانہ مشن کی خصوصی تائید کا ایک معاملہ تھا۔ اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آفاق اور انفس میں اللہ کی آیات (signs) چھپی ہوئی ہیں۔ یہ آیات ظاہر ہو کر انسان کے لیے تبیینِ حق کا ذریعہ بنیں گی۔ یہ گویا کائناتی سطح پر اعلیٰ معرفت کے ظہور کی پیشگی خبر تھی، مگر قدیم زمانے میں اس کا ظہور نہ ہو سکا۔ اس کا ظہور پہلی بار موجودہ زمانے میں اہل مغرب کی سائنسی دریافتوں کے ذریعے ہوا۔ یہ بھی غیر اہل ایمان کی طرف سے پیغمبر اسلام کے مشن کی تائید کا ایک اہم معاملہ تھا۔ یہ خارجی تائید اپنے طریقے کے اعتبار سے، عین وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں آؤٹ سورسنگ (outsourcing) کہا جاتا ہے۔ پیغمبرانہ مشن کے لیے یہ خارجی تائید کوئی اتفاقی معاملہ نہ تھا، بلکہ وہ ایک ایسا معاملہ تھا جو اللہ کی طرف سے پیشگی طور پر مقدر کر دیا گیا تھا۔ اس حقیقت کو ایک حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اِنَّ اللَّهَ لَیُؤَيِّدُ هٰذَا الدِّینَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ اس حدیث میں موئید کے لیے ’فاجر‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ فاجر کا مطلب ہے ــ بد کردار (sinner)۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی طرف سے پیغمبر کے مشن کی خارجی تائید کا جو کام ہے، وہ صرف مخلصین اور مومنین کے ذریعے نہیں ہوگا، بلکہ وہ ایسے افراد کے ذریعے بھی ہوگا جو اخلاقی اعتبار سے بد کردار اور گناہ گار ہوں گے۔ مذکورہ دونوں واقعات پیغمبرانہ مشن کے لیے عظیم تائیدی واقعات تھے، مگر یہ دونوں واقعات اہل ایمان کی تائید سے پیش نہیں آئے، بلکہ وہ ایسے لوگوں کے ذریعے پیش آئے جو فقہ اسلامی کی اصطلاح میں ’’مشرک اور فاجر‘‘ تھے۔ فاجر شخص کے ذریعے تائیدِ دین کے یہ واقعات صرف تائید کے واقعات نہیں ہیں، بلکہ اسی کے ساتھ وہ دلیلِ نبوت بھی ہیں۔ اہل مغرب اور مغربی تہذیب موجودہ زمانے میں مسلم مصنفین نے ہزاروں کی تعداد میں ایسی کتابیں اور مقالات شائع کیے ہیں جن کا موضوع اہل مغرب یا مغربی تہذیب ہوتا ہے۔ اس قسم کی تحریریں عربی، اردو، انگریزی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page