اظہارِ دین
Urdu book, p. 355
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے تین مرحلے تھے— پہلا مرحلہ مردانِ کار یا ٹیم کی تیاری کا مرحلہ تھا۔ یہ پہلا مرحلہ آپ کی پیدائش سے پہلے لمبی مدت میں بنواسماعیلی کی صورت میں تشکیل پایا۔ دوسرا مرحلہ مختصر مرحلہ ہے جو پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر کی زندگی میں پورا ہوا۔ تیسرا مرحلہ دوبارہ لمبی مدت کا مرحلہ تھا جو کہ مغربی تہذیب کی صورت میں اپنی تکمیل تک پہنچا۔ نورِ ہدایت کا اتمام پیغمبرانہ مشن کے سلسلے میں ایک منصوبہ الہی کو اظہارِ دین کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اظہارِ دین اور اتمامِ نور کی آیت قرآن کی تین سورتوں میں آئی ہے۔ سورۃ الصف کے الفاظ یہ ہیں: يُرِيدُونَ لِيُطْفِؤُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (9-8: 61) یعنی وہ چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں، حالانکہ اللہ اپنے نور کا اتمام کر کے رہے گا، خواہ منکروں کو یہ کتنا ہی نا گوار ہو۔ اللہ ہی ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ، تا کہ وہ اُس کو سب دینوں پر غالب کر دے، خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی نا گوار ہو۔ قرآن کی اِس آیت میں اظہارِ دین سے کچھ لوگ سیاسی غلبہ مراد لیتے ہیں، مگر آیت کے الفاظ سے اِس مفہوم کا کوئی تعلق نہیں۔ قرآن کی آیت میں جو لفظ استعمال کیا گیا ہے، وہ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ ہے، نہ کہ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الْأَرْضِ كُلِّهَا۔ یعنی، اِس آیت میں جس غلبہ کا ذکر ہے، وہ زمین پر ہونے والا غلبہ نہیں ہے، بلکہ وہ دین یا ادیان پر ہونے والا غلبہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اس سے مراد فکری اور نظریاتی غلبہ ہے، نہ کہ سیاسی اور حکومتی غلبہ۔ دوسرے لفظوں میں، اس سے مراد غلبہ بہ مقابلہ آئیڈیالوجی ہے، نہ کہ غلبہ بہ مقابلہ سیاسی اقتدار۔ اِسی طرح قرآن کی مذکورہ آیت میں 'مُتِمّ نورہ' کا لفظ آیا ہے۔ قرآن میں 'مُتِمّ مُحکمہ' کا لفظ نہیں آیا ہے، یعنی اِس سے مراد نور کا اتمام ہے، نہ کہ حکومت کا اتمام۔ اِس اتمام کا مطلب یہ نہیں کہ ابھی مسلمانوں کی حکومت مکہ مدینہ میں قائم ہوئی ہے، آئندہ ان کی حکومت سارے عالم میں قائم ہو جائے گی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader