اظہارِ دین
Urdu book, p. 357
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانے کو ایج آف کمیونیکیشن (age of communication) کہا جاتا ہے۔ یہ ایج آف کمیونیکیشن کیا ہے۔ یہ دراصل دعوت بذریعہ روایتی ذرائع کو دعوت بذریعہ ٹکنالوجی کے دور میں پہنچانا ہے۔ موجودہ زمانے میں کمیونیکیشن کے جو ذرائع پیدا ہوئے ہیں، انھوں نے دعوت بذریعہ روایتی ذرائع کو دعوت بذریعہ کمیونیکیشن کے دور میں پہنچا دیا ہے۔ اب یہ پوری طرح ممکن ہوگیا ہے کہ پیغمبرانہ دعوت کی اشاعت عالمی سطح پر انجام دی جائے۔ جدید ٹکنالوجی اور دوسرے معاون حالات کے نتیجے میں آج یہ ممکن ہو گیا ہے کہ کسی سیاسی اقتدار یا کسی پولٹکل ایمپائر کے بغیر غیر سیاسی دائرے میں اسلامی دعوت کا ایک عالمی ایمپائر قائم کیا جا سکے۔ اس ایمپائر کو غیر سیاسی دعوت ایمپائر (non-political dawah empire) کہا جا سکتا ہے۔ جدید کمیونیکیشن اور پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کو استعمال کر کے عالمی دعوت کی اُس پیشین گوئی کو واقعہ بنایا جا سکے جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا (25:1)۔ یعنی، بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تا کہ وہ جہان والوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔ ربانی تہذیب کا ظہور رسول اور اصحاب رسول کے ذریعے تاریخ میں جو انقلاب آیا، وہ محدود طور پر صرف ایک سیاسی واقعہ نہ تھا۔ اُس کا تعلق پوری تاریخ بشری سے تھا۔ جس چیز کو قرآن میں ”اتمامِ نور“ کہا گیا ہے، وہ دوسرے لفظوں میں تہذیبِ ربانی (divine civilization) کو قائم کرنے کا معاملہ تھا۔ اللہ کو یہ مطلوب تھا کہ اس کی کتاب (قرآن) محفوظ ہو جائے۔ تاریخ میں ایسے انقلابات ظہور میں آئیں جن کے نتیجے میں دنیا میں پرنٹنگ پریس کا دور آئے۔ فطرت میں چھپے ہوئے راز منکشف ہوں، تا کہ انسان کو علمی سطح پر خالق کی معرفت حاصل ہو۔ کمیونیکیشن کے ذرائع دریافت ہو کر انسان کے استعمال میں آسکیں۔ اسی طرح یہ ہو کہ دنیا میں مذہبی آزادی کا دور آئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader