Urdu book · اظہارِ دین

ربانی تہذیب کا ظہور

Urdu book, p. 358

By Maulana Wahiduddin Khan

دین حق کی عالمی اشاعت ممکن ہو جائے۔ معرفت کے تمام چھپے ہوئے خزانوں پر انسان کو دسترس حاصل ہو جائے، وغیرہ۔ اس پورے معاملے کو تہذیب ربانی کے ظہور سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ رسول اور اصحاب رسول کے ذریعے یہی انقلابی واقعہ پیش آیا اور فطرت کے قانون کے مطابق، مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے اکیسویں صدی تک پہنچا جو اس کی تکمیل کا مرحلہ ہے۔ تاہم تکمیل کا یہ مرحلہ بہ اعتبار امکان ہے، نہ کہ بہ اعتبار واقعہ۔ ربانی تہذیب کیا ہے، وہ خدا کا قائم کردہ ایک با معنی تسلسل ہے جو کسی انقطاع کے بغیر تاریخ انسانی میں مسلسل طور پر جاری ہے۔ اب اہل اسلام کا یہ فرض ہے کہ وہ تاریخ کے اشارے کو سمجھیں، وہ پیدا شدہ مواقع کو استعمال کرکے دین توحید کو پر امن انداز میں تمام عالم تک پہنچا دیں۔ یہی پیغمبرانہ مشن کی وہ تکمیل ہے جس کی پیشین گوئی حدیثِ رسول میں کی گئی تھی۔ اس عالمی رول کو ادا کرنے کی صرف ایک ہی شرط ہے، وہ یہ کہ اہل اسلام قوموں کے خلاف، نفرت اور تشدد کے کلچر کو یک طرفہ طور پر ختم کر دیں اور کسی شرط کے بغیر پر امن دعوتی کلچر کو اختیار کر لیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page