اظہارِ دین
Urdu book, p. 360
By Maulana Wahiduddin Khan
طور پر محفوظ ہو جائیں۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں اسی معاملے کو ان الفاظ میں بیان فرمایا کہ اب خدا کا دین خشیت انسانی کے دور سے باہر آ گیا ہے۔ پچھلے پیغمبروں کی تعلیمات کے محفوظ نہ ہونے کا سبب کیا تھا، اس کا سبب یہ تھا کہ حفاظت کا یہ کام اسباب کے ذریعے ہو سکتا تھا۔ مگر پچھلے پیغمبروں کے ساتھ یہ اسباب جمع نہیں ہوئے ۔ مثلاً کسی پیغمبر کا کام یا تو شخصی اعلان تک محدود رہا، یا یہ ہوا کہ صرف چند افراد اُن کا ساتھ دینے والے بنے، اور صرف چند افراد حفاظتِ دین کے لیے کافی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے ساتھ ایک خصوصی معاملہ یہ کیا کہ پیشگی طور پر ایک موافق نسل تیار کی۔ نسل سازی کا یہ کام حضرت ابراہیم اور حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل کے ذریعے عرب کے صحرا میں کیا گیا۔ عرب کے صحرا میں نسل سازی کا یہ مشن تقریباً ڈھائی ہزار سال تک چلتا رہا، اس کے بعد ایک نئی نسل تیار ہوئی جس کو بنو اسماعیل کہا جاتا ہے۔ اسی نسل میں 570 عیسوی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔ اس نسل کے درمیان آپ نے پیغمبر کی حیثیت سے تقریباً 23 سال تک کام کیا۔ ان میں سے عورتوں اور مردوں کی ایک بڑی تعداد آپ کے دین میں داخل ہو گئی۔ اس طرح وہ گروہ بنا جس کو اصحاب کہا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق، اصحابِ رسول (عورت اور مرد) کی تعداد تقریباً 2 لاکھ تھی ۔ اصحابِ رسول کی اِسی جماعت کے ذریعے وہ موافق اسباب فراہم ہوئے جن کو ہم نے تائیدی عناصر (supporting elements) کا نام دیا ہے۔ اصحابِ رسول کا رول اصحابِ رسول کی یہی جماعت ہے جس نے پہلی بار اس کو ممکن بنایا کہ خدا کے دین کا ایک محفوظ ایڈیشن تیار ہو گیا ۔ اس سلسلے میں اصحابِ رسول کے رول کے مختلف پہلو ہیں۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت ایک تاریخی شخصیت بن جائے۔ قدیم دور میں جو پیغمبر آئے، اُن کی تعداد روایات میں تقریباً ایک لاکھ 24 ہزار بتائی گئی ہے، لیکن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader