اسلام کی دریافت
Urdu book, p. 359
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کی دریافت قرآن کی سورۃ المائدہ میں ایک آیت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے دورِ آخر میں نازل ہوئی۔ اس کا ایک حصہ یہ ہے: الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ ۚ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (5:3) ۔ یعنی، آج منکر تمھارے دین کی طرف سے مایوس ہوگئے، پس تم ان سے نہ ڈرو، صرف مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمھارے لیے تمھارے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا۔ قرآن کی اس آیت میں اکمالِ دین یا تکمیلِ دین (completion of religion) سے مراد فہرستِ احکام کی تکمیل نہیں ہے اور نہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب اسلام حکومتی معنوں میں غالب ہو گیا ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اسلام کی راہ کے موانع (obstacles) ختم ہو گئے۔ خود آیت کے الفاظ سے اسی مفہوم کی تائید ہوتی ہے۔ کیوں کہ آیت میں اکمالِ دین کا مطلب یہ بتایا گیا ہے کہ اب خشیتِ انسانی (human fear) کا دور ختم ہو گیا۔ اب خدا کے دین کے حق میں ایسے اسباب جمع ہو گئے ہیں جو اس کو اس سے محفوظ کر دیتے ہیں کہ وہ ماضی کی طرح انسانی رکاوٹوں اور مذہبی جبر کا شکار بنے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم زمانے میں ہزاروں سال کے درمیان مسلسل پیغمبر آتے رہے (23:44)۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، کسی بھی پیغمبر کی تعلیمات محفوظ نہ رہ سکیں، حتی کہ ان پیغمبروں کا مدوّن تاریخ (recorded history) میں کوئی ریفرنس بھی موجود نہیں۔ اس کا سبب یہ تھا کہ پیغمبروں کے مشن کو محفوظ رکھنے کے لیے جو تائیدی عناصر (supporting elements) درکار تھے، وہ ان کو حاصل نہ ہو سکے۔ پیغمبر آخر الزماں محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان تائیدات کو جمع کر دیا۔ اس طرح یہ ممکن ہوا کہ آپ کی تعلیمات ابدی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader