Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

امتحان کے لیے کیا ہے۔ انسانی زندگی میں سفرنگ کے جو واقعات ہوتے ہیں، وہ تمام تراسی آزادی کے غلط استعمال کے نتیجے میں ہوتے ہیں، کبھی براہِ راست طور پر اور کبھی بالواسطہ طور پر، کبھی سفرنگ میں مبتلا شخص کے ذاتی عمل کی وجہ سے اور کبھی دوسرے انسانوں کے عمل کی وجہ سے، کبھی کسی فوری غلطی کے نتیجے کے طور پر اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ پچھلی نسلوں کی غلطی کی بنا پر اُس کا نتیجہ بعد کی نسلوں کے سامنے آتا ہے۔ کائناتی معنویت کی توجیہ خدا کے وجود کی بحث کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کا تعلق، کائنات کی معنویت (meaning) سے ہے۔ خدا کو ماننا، نہ صرف کائنات کے وجود کی توجیہ ہے بلکہ خدا کا عقیدہ کائنات کو کامل طور پر با معنی بنا دیتا ہے۔ خدا کو نہ ماننے کا مطلب یہ ہے کہ با معنی کائنات ایک بے معنی انجام پر ختم ہوجائے۔ جب کہ خدا کو ماننا، یہ بتاتا ہے کہ کائنات آخر کار ایک با معنی انجام پر پہنچنے والی ہے۔ انسان کے اندر پیدائشی طور پر انصاف اور بے انصافی کا تصور پایا جاتا ہے۔ انسان پیدائشی طور پر یہ چاہتا ہے کہ جو شخص انصاف کے اصولوں کے تحت زندگی گزارے، اُس کو انعام ملے۔ اور جو شخص نا انصافی کا طریقہ اختیار کرے، اُس کو سزا دی جائے۔ اِس فطری تقاضے کی تکمیل صرف باخدا کائنات (universe with God) کے نظریے میں ملتی ہے، بے خدا کائنات (universe without God) کے نظریے میں اِس فطری تقاضے کا کوئی جواب نہیں۔ ہر انسان پیدائشی طور پر اپنے اندر خواہشوں کا سمندر لیے ہوئے ہے۔ موجودہ دنیا میں ان خواہشوں کی تکمیل (fulfillment) ممکن نہیں۔ بے خدا کائنات کے نظریے میں انسان کے لیے یہ حسرت ناک انجام مقدر ہے کہ اس کی فطری خواہشیں کبھی پوری نہ ہوں۔ لیکن باخدا کائنات کے نظریے میں یہ امکان موجود ہے کہ آدمی اپنی خواہشوں کی کامل تسکین، بعد از موت کے مرحلۂ حیات میں پالے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page