کائناتى معنویت کی توجیہ
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
وقت کا شعور انسانی نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان ایک ٹائم کانشنس مخلوق ہے۔ وہ اپنے وقت کو حال اور مستقبل میں بانٹ کر دیکھتا ہے۔ مگر دوسری طرف یہ ایک واقعہ ہے کہ ہر آدمی کو اپنی زندگی میں صرف حال (present) ملتا ہے۔ ہر آدمی اپنے مستقبل سے محروم ہو کر مایوسی کی حالت میں مرجاتا ہے ۔ وہ اپنے حال میں بہتر مستقبل کے لیے عمل کرتا ہے، لیکن اس کی محدود عمر میں اس کا وہ بہتر مستقبل اس کو نہیں ملتا اور وہ مایوسی کے ساتھ اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ ایک بار ہم نے انٹرنیٹ پر یہ سوال ڈالا کہ بڑے بڑے لوگوں میں وہ کون ہیں جو اپنی آخری عمر میں مایوسی کا شکار ہوئے اور ڈپریشن (depression) کی حالت میں مرے ۔ اس کے جواب میں انٹرنیٹ نے جو فہرست دی، اس میں چار سو دو بڑے بڑے اشخاص کے نام موجود تھے۔ (کوئی شخص سرچ انجن پر جا کر اس فہرست کو دیکھ سکتا ہے۔ اس کا عنوان یہ ہے : Risk) Factor: Depression_ کائنات کے باخدا نظریے میں انسان کے اس فطری سوال کا جواب موجود ہے، لیکن کائنات کے بے خدانظریے میں اس سوال کا کوئی جواب موجود نہیں۔ زوجین کا اصول کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں ہر چیز جوڑا جوڑا پیدا کی گئی ہے ۔ منفی برقی ذرے کا جوڑا مثبت برقی ذرہ، درخت کے پھولوں میں نر اور مادہ، حیوانات میں مذکر اور مونث ۔ انسان میں عورت اور مرد، وغیرہ ۔ یہ ایک کائناتی قانون ہے کہ یہاں ہر چیز اپنے جوڑے کے ساتھ مل کر اپنی تکمیل کرتی ہے ۔ اس لحاظ سے انسانی زندگی کا بھی ایک جوڑا ہونا چاہیے، یعنی موت سے پہلے کی نامکمل زندگی کے ساتھ موت کے بعد کی کامل زندگی ۔ باخدا کائنات کے نظریے میں اُس کا یہ تکیلی جوڑا موجود ہے، لیکن بے خدا کائنات کے نظریے میں اُس کا یہ تکیلی جوڑا موجود نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader