اظہارِ دین
Urdu book, p. 384
By Maulana Wahiduddin Khan
واقعتاً اس طرح کی طاقت رکھتا ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ موجودہ زمانے میں زمین پر واقع ہونے والی اُس انسان کُش تباہی کو روکے جو گلوبل وارمنگ کی صورت میں ظاہر ہوئی ہے۔ گلوبل وارمنگ کو روکے میں انسان کی ناکامی نے ہیومن ازم کے فلسفے کا آخری طور پر خاتمہ کر دیا ہے۔ جب گلوبل وارمنگ کا ظاہر ہ سامنے آیا تو تمام دنیا کی حکومتیں اور تمام دنیا کے سائنس داں بڑے پیمانے پر متحرک ہوگئے۔ کوپن ہیگن (ڈنمارک) میں اس موضوع پر ہونے والی کانفرنس (دسمبر 2009) میں دنیا کے تمام ملکوں کے سائنس داں بڑی تعداد میں اکٹھا ہوئے۔ اس طرح کی کوششیں حکومتوں کی طرف سے بھی کی جارہی ہیں اور سائنس دانوں کی طرف سے بھی۔ اس موضوع پر تحقیقات اور تجربات کا سلسلہ ساری دنیا میں مسلسل طور پر جاری ہے، مگر نتیجے کے اعتبار سے وہ مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا۔ گلوبل وارمنگ کا خطرہ مسلسل طور پر بڑھ رہا ہے۔ اب وہ خطر ناک سطح تک پہنچ چکا ہے، مگر اُس کو روکے کے لیے انسان کی ہر کوشش پوری طرح بے نتیجہ ثابت ہورہی ہے۔ گلوبل وارمنگ کا یہ تجربہ کوئی سادہ واقعہ نہیں۔ وہ ہیومن ازم کے نظریے کے کامل ابطال (total negation) کے ہم معنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گلوبل وارمنگ کے ظاہر نے اُسی طرح ہیومن ازم کے فکر کا خاتمہ کر دیا ہے جس طرح اس سے پہلے فطرت پرستی کو سائنس نے ختم کیا تھا اور جمہوریت کے ذریعے بادشاہت کا خاتمہ کر دیا گیا تھا۔ موجودہ گلوبل وارمنگ بھی پچھلے خدائی آپریشن کی طرح ایک خدائی آپریشن ہے جس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دین حق کے لیے ہیومن ازم کا متبادل ایک بے بنیاد متبادل (false alternative) تھا۔ اس طرح خدائی فیصلے کے مطابق، دین حق نے دوبارہ تاریخ میں فکری اظہار کا وہ درجہ حاصل کر لیا جو خدا نے اس کے لیے ابدی طور پر مقدر کیا تھا۔ خلاصۂ کلام او پر جو کچھ کہا گیا، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن نے ساتویں صدی کے ربع اول میں یہ اعلان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader