ہدایت اور اظہارِ دین
Urdu book, p. 383
By Maulana Wahiduddin Khan
(Man is the measure of all things.) انسان ہی ہر اعتبار سے سب کچھ ہے۔ مگر عین اسی زمانے میں ایک نیا طاقت ور ظاہر ہوا جس نے ہيومن ازم کے تصور کو عملاً باطل ثابت کر دیا۔ یہ طاقت ور ظاہر وہ تھا جس کو عام طور پر گلوبل وارمنگ کہا جاتا ہے، یعنی عالمی سطح پر حرارت کا غیر متناسب طور پر بڑھ جانا جس کے نتیجے میں زمین پر زندگی کا نظام درہم برہم ہو جائے۔ موجودہ زمانے میں جدید ٹکنالوجی کے ظہور کے بعد انڈسٹری کو بہت ترقی ہوئی۔ مختلف ملکوں میں کثیر تعداد میں بڑے بڑے کارخانے قائم ہوئے۔ ان کارخانوں کو چلانے کے لیے جو ایندھن (fuel) استعمال ہوتا تھا، اُس سے مسلسل طور پر بڑی مقدار میں کاربن خارج ہونے لگا۔ اِس اخراج کو کاربن ایمیشن (carbon emission) کہا جاتا ہے۔ اِس کاربن ایمیشن نے زمین کے اوپر قائم شدہ فضا کو خطرناک حد تک آلودہ بنا دیا۔ اِس فضائی آلودگی یا فضائی حرارت کے نتیجے میں کئی ناقابل حل مسائل پیدا ہو گئے۔ اِس کے نتیجے میں برف کے بڑے بڑے ذخائر، پہاڑوں کے گلیشیر، نارتھ پول اور ساؤتھ پول کی آئس کیپ (ice cap)، سمندروں میں تیرتے ہوئے برفانی پہاڑ (iceberg) تیزی سے پگھلنے لگے۔ اِس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ سمندروں کی سطح بڑھنے لگی۔ نازک حیوانات (fragile animals) مرنے لگے۔ اِس طرح کے واقعات کے نتیجے میں یہ ہوا کہ زمین پر قائم شدہ لائف سپورٹ سسٹم تباہ ہونے لگا، حتیٰ کہ اب سائنس داں یہ خبر دے رہے ہیں کہ زمین بہت جلد انسان کے لیے ناقابل رہائش بن جائے گی۔ اِس صورتِ حال کا پیدا ہونا کوئی سادہ واقعہ نہیں۔ یہ دراصل ہيومن ازم کے فلسفے کی موت کا اعلان ہے۔ ہيومن ازم کے فلسفے میں یہ مان لیا گیا تھا کہ انسان کائنات میں مرکزی مقام (central position) رکھتا ہے۔ انسان کی اِس حیثیت کو ماننے کے لیے یہ ضروری ہے کہ یہ مانا جائے کہ انسان کو ہر طرح کی قدرت حاصل ہے، انسان اپنے مستقبل کا مالک ہے۔ اگر انسان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader