Urdu book · اظہارِ دین

دعوت اور نصرت

Urdu book, p. 387

By Maulana Wahiduddin Khan

دعوت اور نصرت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے اس معاملے میں جو ماڈل (model) قائم ہوا ہے، وہ یہ ہے کہ پیغمبرانہ مشن کے دو بڑے حصے ہیں۔ پہلے حصے کا عنوان دعوت ہے، اور دوسرے حصے کا عنوان نصرت ، یعنی اہل ایمان کو یہ کرنا ہے کہ پہلے وہ احساسِ ذمے داری کے تحت، دعوت الی اللہ کا کام شروع کریں۔ وہ آخری حد تک پرامن رہتے ہوئے اپنے دعوتی مشن کو جاری رکھیں ۔ وہ کسی حال میں ردعمل یا ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہ کریں۔ اس کے بعد اہل ایمان کے ساتھ جو کچھ ہوگا، وہ تمام تر اللہ کی نصرت کے تحت ہوگا۔ اللہ کی نصرت کے تحت اہل ایمان کے لیے مزید مواقع کھلتے چلے جائیں گے۔ اہل ایمان کا کام یہ ہے کہ وہ ان مواقع کو پہچانیں اور دانش مندانہ طور پر ان کو استعمال کریں، یہاں تک کہ ان کا سفرِ دعوت اپنی آخری منزل تک پہنچ جائے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو نمونہ قائم ہوا، اس کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملے میں نصرتِ الہی کے ظہور کے تین مرحلے ہیں۔ وہ مرحلے حسب ذیل ہیں : 1۔ نصرت باعتبارِ حفاظت (Nusrat in terms of security) 2۔ نصرت باعتبار پر اس (Nusrat in terms of process) 3۔ نصرت باعتبار فتح (Nusrat in terms of victory) 4۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ میں اپنا دعوتی مشن شروع کیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو یہ ہدایت دی گئی: يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ 0 قُمْ فَأَنْذِرْ 0 وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ 0 وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ 0 وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ 0 وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ 0 وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرُ (7:1-74)۔ یعنی، اے کپڑے میں لپٹنے والے۔ اٹھ اور لوگوں کو ڈرا ۔ اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر۔ اور اپنے کپڑے کو پاک رکھ۔ اور گندگی کو چھوڑ دے۔ اور ایسا نہ کر کہ احسان کرواور بہت بدلہ چاہو ۔ اور اپنے رب کے لیے صبر کرو۔ یہ قرآن کی سورۂ المدثر کی ابتدائی آیتیں ہیں ۔ یہ سورہ اگرچہ بالکل ابتدا میں نازل ہوئی، لیکن تلاوت کی ترتیب کے اعتبار سے وہ مصحف کے آخری حصے میں شامل ہے ۔ ان آیات میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page