Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 388

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام کو جو ہدایت دی گئی ، اس کا مطلب یہ تھا کہ تم پر امن انداز میں دعوت الی اللہ کا کام کرتے رہو۔ مشن کے بقیہ مراحل کا تعلق تمام تر اللہ کی نصرت سے ہے۔ تم انتظار کی پالیسی پر قائم رہو اور جب اللہ کی نصرت ظاہر ہو تو تم اس کے مطابق ، اُس کو استعمال کرو۔ نصرت باعتبارِ حفاظت جیسا کہ عرض کیا گیا ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا دعوتی مشن شروع کیا۔ آپ نے یک طرفہ طور پر امن کی روش اختیار کرتے ہوئے اپنے مشن کو جاری رکھا۔ اُس وقت مکہ میں مشرکین کا غلبہ تھا۔ انھوں نے آپ کے ساتھ مخالفت کا طریقہ اختیار کیا۔ جب حالات بہت زیادہ شدید ہو گئے ، اُس وقت بھی آپ نے ٹکراؤ سے مکمل اعراض کیا۔ یہاں تک کہ نبوت کے 13 سال بعد آپ مکہ چھوڑ کر مدینہ آگئے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ آپ نے اور آپ کے اصحاب نے ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہیں کیا ، بلکہ اپنے مقامِ عمل (work place) کو بدل دیا۔ واقعات بتاتے ہیں کہ ہجرت کے بعد بھی مکہ کے مشرک سردار خاموش نہیں ہوئے ، بلکہ انھوں نے یک طرفہ طور پر مسلح جارحیت کا طریقہ اختیار کیا۔ انھوں نے باقاعدہ جنگی تیاری کر کے مدینہ پر حملہ کر دیا۔ یہ واقعہ پیغمبر اسلام کی ہجرت کے 16 ماہ بعد پیش آیا۔ مدینہ سے تقریباً 80 میل دور بدر کے مقام پر دونوں فریقوں کے درمیان جنگ ہوئی۔ اِس جنگ کو تاریخ میں غزوہ بدر کہا جاتا ہے۔ یہ صرف یک روزہ جنگ تھی جو 17 رمضان 2 ہجری کو پیش آئی۔ اس جنگ میں فریق مخالف کی طرف سے ایک ہزار مسلح افراد تھے جو پوری تیاری کے ساتھ آئے تھے۔ دوسری طرف 313 کی تعداد میں اصحاب رسول تھے ، جو کم تر جنگی تیاری کے باوجود اپنے دفاع کے لیے بدر کے مقام پر پہنچے تھے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم خود بنفسہ عملاً اس جنگ میں شریک نہ تھے۔ البتہ آپ کے لیے میدان جنگ سے باہر وقتی طور پر ایک عریش (hut) بنایا گیا تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ جب دونوں گروہوں کے درمیان مسلح ٹکراؤ کا وقت آیا تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page