کائناتى معنویت کی توجیہ
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
آئیڈیل ازم کی ناکامی تمام فلسفہ اور مفکرین موجودہ دنیا کو ابدی (eternal) سمجھتے رہے ہیں۔ ان کا خیال یہ تھا کہ اسی موجودہ عالم میں ہم کبھی نہ کبھی اپنی مطلوب دنیا بنا لیں گے۔ آئیڈیل سوسائٹی، آئیڈیل ریاست، آئیڈیل نظام کے تصورات اسی فکر کے تحت پیدا ہوئے ۔ ایسے تمام مفکرین ان تصورات سے اپنی آخری عمر تک مسحور رہے۔ لوگوں کے نزدیک تہذیب (civilization) اسی انسانی خواب کی تعبیر تھی۔ موجودہ صنعتی ترقیوں کے بعد لوگوں نے یہ سمجھا کہ تہذیبی ارتقا آخر کار انہیں اس منزل تک پہنچانے والا ہے، جب کہ اسی موجودہ دنیا میں وہ اپنی جنت تعمیر کر لیں۔ لیکن یہ تصور مکمل طور پر باطل ثابت ہوا۔ دنیا کا خاتمہ جدید سائنس کے بانی سر آئزاک نیوٹن (وفات 1727) نے 1704 میں قوانین طبعی کا مطالعہ کر کے بتایا تھا کہ موجودہ دنیا 2060 میں ختم ہو جائے گی۔ (ٹائمز آف انڈیا، 18 جون 2007)۔ اب دنیا بھر کے تمام سائنس داں خالص مشاہدات کی بنیاد پر یہ بتا رہے ہیں کہ گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں دنیا کا خاتمہ یقینی بن چکا ہے۔ تہذیب کا مزید ارتقا اب سرے سے یہاں ممکن ہی نہیں۔ الون ٹا فلر (Alvin Toffler) کی کتاب فیوچر شاک، پہلی بار 1970 میں چھپی۔ الون ٹافلر نے بتایا تھا کہ دنیا انڈسٹریل ایج سے نکل کر اب سپر انڈسٹریل ایج میں داخل ہو رہی ہے۔ تہذیب کا اگلا دور مکمل آٹومیشن (complete automation) کا دور ہوگا۔ پش بٹن کلچر (push button culture) اس حد تک ترقی کرے گا کہ ہر کام آٹومیٹک طور پر ہونے لگے گا۔ لیکن گلوبل وارمنگ کا مسئلہ تکمیل تاریخ کے بجائے خاتمہ تاریخ (end of history) کا پیغام لے کر سامنے آگیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader