اظہارِ دین
Urdu book, p. 400
By Maulana Wahiduddin Khan
موافقِ اسلام دور موجودہ زمانے میں جو تبدیلیاں ظہور میں آئی ہیں، وہ اتنی زیادہ ہیں کہ کوئی انسائیکلو پیڈیا بھی ان کا احاطہ نہیں کرسکتی۔ ان کے بیان کے لیے ایک پوری لائبریری کی ضرورت ہے۔ تاہم مختصر طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان تبدیلیوں کی بنا پر تاریخ انسانی میں پہلی بار ایک نیا دور پیدا ہوا، ایک ایسا دور جس کا تصور قدیم انسان نہیں کرسکتا تھا۔ یہ دور اپنی حقیقت کے اعتبار سے، مکمل طور پر ایک موافق اسلام دور ہے۔ مزید یہ کہ دورِ جدید کے یہ عظیم امکانات تمام تر امن کے تصور پر مبنی ہیں۔ ان امکانات کو استعمال کرنے کے لیے نہ جنگ کی ضرورت ہے اور نہ کوئی سیاسی ایمپائر قائم کرنے کی۔ ان جدید مواقع کا یہ ایک حیرت انگیز پہلو ہے کہ ان کو مکمل طور پر پر امن ذرائع کے تحت استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ ان جدید مواقع کو استعمال کرنے کے لیے کسی بھی مرحلے میں نہ جنگ کی ضرورت ہے اور نہ پولٹیکل پاور کی۔ سیکولر مثال ان صفحات میں جو بات کہی جارہی ہے، وہ صرف ایک مذہبی بات نہیں ہے، یہ دراصل ایک اصولِ فطرت (law of nature) ہے۔ خالق نے جن اصولوں کے تحت اس دنیا کو بنایا ہے، اُن میں سے ایک اصول یہ بھی ہے ۔ اس دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ کچھ چیزیں سطح (on the surface) پر ہوتی ہیں جن کو ہر آدمی دیکھ سکتا ہے، اور کچھ زیادہ بڑی چیزیں ہوتی ہیں، مگر وہ ہمیشہ زیرِ سطح (under the surface) ہوتی ہیں۔ ان دوسری چیزوں کو ہمیشہ وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو بصیرت (wisdom) رکھنے والے ہیں۔ اس دنیا میں زیادہ بڑی کامیابی صرف اُن لوگوں کے لیے مقدر ہے جو اندرنٹ چیزوں کو دیکھ سکیں اور اس کے مطابق، اپنے عمل کی منصوبہ بندی کریں۔ اس کی ایک مثال جاپان ہے۔ دوسری عالمی جنگ میں جاپان محوری گروپ (Axis powers) کے ساتھ تھا۔ اُس زمانے میں جاپان ایک تشدد پسند قوم کی حیثیت رکھتا تھا،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader