Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 399

By Maulana Wahiduddin Khan

لوگ باقاعدہ ہتھیاروں کے ذریعے اپنے مفروضہ دشمن کے ساتھ باقاعدہ لڑائی چھیڑے ہوئے تھے، لیکن یہ دوسوسالہ مقابلہ آرائی یک طرفہ طور پر مسلمانوں کی مغلوبیت پر ختم ہوئی۔ آج ساری دنیا کے مسلمان ایک ہی بولی بول رہے ہیں ــــ ہم مخالفین کی سازشوں سے گھیرے ہوئے ہیں، ہم دشمنوں کی معاندانہ کارروائیوں کا شکار ہیں، وغیرہ۔ اس موضوع پر آج کا مسلم پریس، عربی، فارسی، انگریزی اور اردو میں جو کچھ کہہ رہا ہے، اس کا خلاصہ ایک جملے میں یہ ہے کہ ــــ ہم محاصرہ کی حالت میں ہیں (We are under siege)۔ زیرِ سطح امکانات سطح پر بظاہر وہ حالات تھے جن کو عام طور پر ایڈینٹی مسلم حالات کہا جاتا ہے، لیکن عین اسی مدت میں زیرِ سطح کچھ دوسری سرگرمیاں بڑے پیمانے پر جاری تھیں۔ یہ سرگرمیاں وہ تھیں جو سماجی اور سیاسی اور علمی سطح پر جاری تھیں۔ ان سرگرمیوں کے چیمپیئن بھی مغربی قوموں کے لوگ تھے۔ ان سرگرمیوں کے نتیجے میں اس مدت میں دنیا میں مذہبی آزادی آئی۔ جمہوریت کا دور آیا، امن (peace) کو خیر اعلیٰ (summum bonum) کا درجہ دے دیا گیا، رواداری (tolerance) کو ایک عالمی مسلّم قرار دے دیا گیا، جدید تقاضوں کے تحت ساری دنیا میں ایک نیا ذہن پیدا ہوا جس کو انسان دوست ذہن (human-friendly mind) کہا جاسکتا ہے۔ پھر اسی کے ساتھ اس مدت میں ٹکنالوجی کو غیر معمولی ترقی ہوئی، پرنٹنگ پریس ایجاد ہوا، الیکٹرانک کلچر وجود میں آیا۔ پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا نے ایک نیا دور پیدا کیا جس کو دورِ مواصلات کہا جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ ایک اور ترقی بہت بڑے پیمانے پر وجود میں آئی جس کو علم یا سائنس کی ترقی کہا جاتا ہے۔ اس ترقی نے فطرت کے اندر چھپے ہوئے حقائق انسان کے سامنے کھول دئے۔ علم کے تمام شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں ظہور میں آئیں۔ یہ تبدیلیاں جو موجودہ زمانے میں پیدا ہوئیں، وہ عین اسلام کے حق میں تھیں۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، یہ اُس موافق دور کا ظہور تھا جس کی خبر پیشگی طور پر قرآن (41:53) میں دی گئی تھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page