سیکولر مثال
Urdu book, p. 402
By Maulana Wahiduddin Khan
شعوری طور پر اس حقیقت کو جانا کہ یہاں انڈرکرنٹ ایک اور صورتِ حال موجود ہے جو انڈیا کے لیے ایک موافق امکان کی حیثیت رکھتی ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ تشدد کا طریقہ چھوڑ کر امن کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ یہ انڈرکرنٹ امکان کیا تھا، وہ یہ تھا کہ جس زمانے میں برطانیہ انڈیا پر حکومت کر رہا تھا، اُسی زمانے میں یورپ کے ملکوں میں شاہی خاندان راج کر رہے تھے۔ اِن یورپی ملکوں میں اِن حکومتوں کے خلاف بہت بڑے پیمانے پر تحریکیں اُٹھیں۔ بڑے بڑے یورپی دماغوں نے یہ نظریہ پھیلایا کہ کسی خاندان کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی ملک پر حکومت کرے ۔ اِس سیاسی تحریک کے نتیجے میں ایک سیاسی اصول پورے یورپ میں ایک مُسَلَّم اصول بن گیا۔ اِس اصول کو عام طور پر حکومتِ خود اختیاری (self-determination) کا اصول کہا جاتا ہے: The right of a people to decide upon its own form of government without coercion or outside influence. یہ سیاسی انقلاب یورپ میں پہلے فکری سطح پر آیا۔ اس کے بعد اس نے عملی صورت اختیار کی۔ اِس سیاسی انقلاب کا پہلا عملی اظہار فرانس میں ہوا۔ یہ فرینچ ریوولوشن (French Revolution) تھا جو 1789 میں پیش آیا۔ اِس انقلاب کے بعد فرانس میں شخصی بادشاہت ختم ہوگئی اور جمہوری حکومت قائم ہوگئی۔ دھیرے دھیرے یہ انقلاب پورے یورپ میں پھیل گیا۔ مہاتما گاندھی نے اس سیاسی مسلمہ کو استعمال کیا۔ انھوں نے کہا کہ خود یورپ کے حالات بتاتے ہیں کہ اب بادشاہت کا دور ختم ہو چکا ہے اور ہر ملک کو حق ہے کہ وہ اپنے یہاں قومی حکومت قائم کرے ۔ مہاتما گاندھی نے اس اصول کو لے کر انڈیا کی تحریک آزادی کو نیا رخ دے دیا۔ انھوں نے تشدد کا طریقہ چھوڑ کر پورے معنوں میں پُرامن طریقہ اختیار کیا، جس کو وہ اہنسا (non-violence) کہتے تھے۔ مہاتما گاندھی کی یہ پُرامن جدوجہد برٹش حکومت کے لیے نیا مسئلہ بن گئی۔ انھوں نے محسوس کیا کہ پہلے، جدوجہد آزادی کو دبانا آسان تھا۔ کیوں کہ وہ لوگ برٹش حکومت کے خلاف ہتھیار استعمال کرتے تھے۔ اِس طرح برٹش حکومت کو موقع ملتا تھا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader