اظہارِ دین
Urdu book, p. 403
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ وہ ان کے خلاف ہتھیار استعمال کر کے انھیں کچل دے۔ اس تبدیلی نے برٹش حکمرانوں سے ہتھیار کے استعمال کا جواز چھین لیا۔ اس صورت حال کا اندازہ ایک واقعے سے ہوتا ہے۔ اُس زمانے میں ایک برٹش کلکٹر نے اپنے سیکریٹریٹ کو یہ تار بھیجا۔ براہِ کرم، بذریعہ ٹیلی گرام یہ بتائیے کہ ’’شیر‘‘ کو ہتھیار کے استعمال کے بغیر کیسے ہلاک کیا جائے: Kindly wire instructions how to kill a tiger non-violently. یہ ایک سیکولر مثال ہے کہ کس طرح ایک لیڈر نے اپنے زمانے کے انڈر کرنٹ حالات کو سمجھا اور کامیابی کے ساتھ اس کو استعمال کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ اصول فطرت کا ایک اصول ہے ۔ یہ ایک فطری امکان ہے جو ہمیشہ اور ہر صورتِ حال میں موجود رہتا ہے۔ اس امکان کو ہر بڑے مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، خواہ وہ سیکولر مقصد ہو یا مذہبی مقصد۔ یہی امکان موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے لیے پوری طرح موجود ہے۔ ضرورت ہے کہ اس کو سمجھا جائے اور حقیقت پسندانہ انداز میں اپنے عمل کی منصوبہ بندی کر کے حکیمانہ انداز میں اس کو استعمال کیا جائے۔ فضلِ عظیم کا معاملہ قرآن کی سورۃ النساء میں ایک آیتِ ان الفاظ میں آئی ہے: وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُ لَهَمَّتْ طَائِفَةٌ مَّنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَضُرُّونَكَ مِنْ شَيْءٍ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا (4:113)۔ یعنی ، اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو اُن میں سے ایک گروہ نے یہ ٹھان لیا تھا کہ وہ تم کو بہکا کر رہے گا، حالانکہ وہ اپنے آپ کو بہکا رہے ہیں، وہ تمھارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ اور اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت اتاری ہے اور تم کو وہ چیز سکھائی ہے جس کو تم نہیں جانتے تھے، اور اللہ کا فضل ہے تم پر بہت بڑا۔ قرآن کی اِس آیت میں ’فضل‘ کا لفظ کسی پراسرار معنی میں نہیں ہے۔ فضل کے لفظی معنی ہیں: زیادہ یا شئی مزید (additional thing)۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے علاوہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader