Urdu book · اظہارِ دین

ایک تاریخی قانون

Urdu book, p. 420

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک تاریخی قانون قرآن کی سورۃ البقرہ میں ایک تاریخی قانون کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَلَمَّا بَرَزُوا لِجَالُوتَ وَجُنُودِهِ قَالُوا رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ٥ فَهَزَمُوهُمْ بِإِذْنِ اللَّهِ وَقَتَلَ دَاوُدُ جَالُوتَ وَآتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَهُ مِمَّا يَشَاءُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَفَسَدَتِ الْأَرْضُ وَلَكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِينَ (2:250-251)۔ یعنی، جب جالو ت اور اس کی فوجوں سے اُن (بنی اسرائیل) کا سامنا ہوا تو انھوں نے کہا: اے ہمارے رب، ہمارے اوپر صبر ڈال دے اور ہمارے قدموں کو جما دے اور منکروں کے مقابلے میں تو ہماری مدد کر۔ پھر انھوں نے اللہ کے اذن سے اُن (فلسطینیوں) کو شکست دی ۔ اور داؤد نے جالوت کو قتل کر دیا ۔ اور اللہ نے داؤد کو ملک اور حکمت عطا کیا اور جن چیزوں کا چاہا، اس کا علم بخشا۔ اور اگر اللہ اللہ بعض لوگوں کو بعض لوگوں سے دفع نہ کرتا رہے تو زمین فساد سے بھر جائے ۔ مگر اللہ دنیا والوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے۔ Had it not been for God's repelling some people by means of others, the earth would have been filled with corruption. But God is bountiful to mankind. قرآن کی ان آیات میں جس واقعے کا ذکر ہے، وہ واقعہ قبل مسیح دور سے تعلق رکھتا ہے۔ فلسطین کے جنوبی حصہ (southern coastal area) میں ایک واقعہ ہوا۔ بارہویں صدی قبل مسیح میں یہاں ایک قوم آ کر آباد ہوئی جس کو تاریخ میں، فلسی یا فلسطینی (Philistines) کہا جاتا ہے۔ ان لوگوں نے یہاں اپنی حکومت قائم کرلی۔ بعد کو اُن کے درمیان بگاڑ آیا۔ اُس زمانے میں فلسطین کے شمالی حصے میں بنی اسرائیل آباد تھے۔ فلسطینی، بنی اسرائیل کے خلاف سرکشی کرنے لگے، یہاں تک کہ 1010 قبل مسیح میں فلسطینیوں کا بنی اسرائیل سے مسلح ٹکڑاؤ ہوا۔ اس ٹکڑاؤ میں ایک اسرائیلی نوجوان داؤد کی بہادری سے فلسطینیوں کو شکست ہوئی۔ اس کے بعد رفتہ رفتہ 732 قبل مسیح میں فلسطینیوں کا اس علاقے سے خاتمہ ہو گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page