Urdu book · اظہارِ دین

خلاصہ کلام

Urdu book, p. 419

By Maulana Wahiduddin Khan

خلاصہ کلام ساتویں صدی عیسوی میں حدیبیہ معاہدے کا جو موافق نتیجہ ظاہر ہوا تھا، اس کو قرآن میں ’فتح مبین‘ کہا گیا ہے۔ حدیبیہ معاہدہ کوئی پر اسرار چیز نہ تھی، وہ ایک معلوم حکیمانہ تدبیر تھی۔ ساتویں صدی عیسوی میں اس تدبیر کو صرف محدود طور پر استعمال کیا جا سکتا تھا۔ وہ بھی اس طرح کہ رسول اور اصحابِ رسول کو یہ قربانی دینی پڑی تھی کہ وہ فریق ثانی کی شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان لیں، حتیٰ کہ لفظ ’’رسول اللہ‘‘ کو وہ معاہدے کے دستاویز سے مٹا دیں۔ مگر بعد کو اللہ کی مدد سے جو حالات پیدا ہوئے، اُس کے بعد ایسا ہوا کہ حدیبیہ انقلاب وسیع تر معنی میں ایک عالمی انقلاب بن گیا۔ حدیبیہ معاہدے کے ذریعے جو امکانات صرف دس سال کے لیے حاصل کیے گئے تھے، موجودہ زمانے میں انھوں نے مستقل طور پر عالمی اصول (universal norm) کی حیثیت حاصل کر لی ہے۔ اب نہ دوسروں کی شرطوں کو ماننے کی ضرورت ہے اور نہ کسی دستاویز سے ’’رسول اللہ‘‘ کے لفظ کو مٹانے کی ضرورت۔ حدیبیہ معاہدے کے بعد اہل ایمان کو کام کے جو مواقع ملے تھے، وہ اب مزید اضافے کے ساتھ اُن کو حاصل ہو چکے ہیں۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ ان مواقع کو دریافت کیا جائے اور دانش مندی کے ساتھ اس کو استعمال کیا جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page