یہود کی تاریخ
Urdu book, p. 422
By Maulana Wahiduddin Khan
یہود کی تاریخ دفع کے اس قانون کا نفاذ بعد کے زمانے میں خود یہود (بنی اسرائیل) پر کیا گیا۔ بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے عروج اور غلبہ عطا کیا، لیکن ایک مدت کے بعد یہود میں بھی وہی ”فساد“ پیدا ہوا جو کہ ہر قوم میں پیدا ہوتا ہے۔ جب ایسا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے کسی اور قوم کے ذریعے یہود کے ساتھ دفع کا وہی معاملہ کیا جس کو ہم نے ریڈیکل آپریشن (radical operation) کا نام دیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن میں دو متعین آپریشن کا حوالہ دیا گیا (17:4-8)۔ پہلا واقعہ بابل (عراق) کے بادشاہ نبو کدنضر (Nebuchadnezzar) کا ہے۔ اس نے 586 قبل مسیح میں فلسطین پر حملہ کیا، جو اُس وقت بنی اسرائیل کے زیر قبضہ تھا۔ نبوکدنضر نے بنی اسرائیل کی سیاسی طاقت کو توڑ دیا اور یروشلم میں ان کے عبادت خانہ (ہیکل سلیمانی) کو مکمل طور پر ڈھا دیا۔ اس کے بعد دوسرا واقعہ وہ ہے جو رومی بادشاہ ٹائٹس (Titus) کے ذریعے پیش آیا۔ ٹائٹس نے 70 عیسوی میں یروشلم پر حملہ کر کے اس کو پوری طرح تباہ کر دیا۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: تذکیر القرآن، صفحہ 762-760)۔ بنی اسرائیل کے خلاف یہ آپریشن بطور سزا (punishment) نہ تھا، بلکہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ بطور اننباہ (warning) تھا۔ وہ اس لیے تھا کہ بنی اسرائیل متنبہ ہوں، اُن کا جمود ٹوٹے اور وہ اپنی اصلاح کر کے دوبارہ اللہ کی رحمت کے مستحق بن جائیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَنْ يَرْحَمَكُمْ ۚ وَإِنْ عُدْتُمْ عُدْنَا (17:8)۔ یعنی، بعید نہیں کہ تمہارا رب تمہارے اوپر رحم کرے ۔ اور اگر تم پھر وہی کرو گے تو ہم بھی وہی کریں گے۔ لیکن بنی اسرائیل دوبارہ اصلاح قبول نہ کر سکے۔ وہ بدستور اپنی حالت پر قائم رہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حامل کتاب الہیٰ ہونے کی حیثیت سے معزول کر دیا اور بنواسماعیل کو حامل کتاب الہیٰ کی حیثیت دے دی۔ تبدیلی کے اس واقعے کا ذکر قرآن کی ایک آیت میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ ۖ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader