اظہارِ دین
Urdu book, p. 423
By Maulana Wahiduddin Khan
اِبْرَاهِيمَ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَءَاتَيْنَهُمُ مُلْكًا عَظِيمًا (54)- یعنی، کیا یہ لوگوں پر حسد کر رہے ہیں اس بنا پر جو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے دیا ہے۔ پس ہم نے آلِ ابراہیم کو کتاب اور حکمت دی اور ہم نے ان کو ایک بڑی سلطنت بھی دے دی۔ مسلم تاریخ کی مثال مسلم ملت دفع کے اس تاریخی قانون سے مستثنیٰ نہیں۔ چنانچہ پچھلے چودہ سو سال میں یہ معاملہ بار بار پیش آیا ہے، یعنی ایک گروہ کو مقامِ اقتدار سے ہٹا کر اس کی جگہ دوسرے گروہ کو مقامِ اقتدار پر لانا، ایک گروہ کو معزول کر کے دوسرے گروہ کو کام کا موقع دینا۔ پچھلے چودہ سو سال میں جن مسلم گروہوں کو اقتدار ملا، اُن کی بنیادی تقسیم یہ ہے: 1۔ خلافتِ راشدہ (Rashidun Caliphate) 632-661ء 2۔ خلافتِ امویہ (Umayyad Caliphate) 661-750ء 3۔ خلافتِ اندلس (Moorish Empire) 711-1492ء 4۔ خلافتِ بنوعباس (Abbasid Empire) 750-1258ء 5۔ مغل سلطنت (Mughal Empire) 1226-1857ء 6۔ عثمانی خلافت (Ottoman Empire) 1299-1922ء مذکورہ سیاسی واقعات میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک مسلم گروہ کو اقتدار حاصل ہوتا ہے اور پھر ایک مدت کے بعد اُس کو ہٹا کر اس کی جگہ دوسرے گروہ کو لایا جاتا ہے۔ مسلم ملت کے درمیان یہ سلسلہ تقریباً انیسویں صدی کے آخر تک جاری رہتا ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں کا غلبہ ختم ہو جاتا ہے اور مغربی قوموں کو غلبہ حاصل ہو جاتا ہے، خواہ براہِ راست طور پر یا بالواسطہ طور پر۔ یہ تمام واقعات اتفاقاً نہیں ہو رہے ہیں، بلکہ وہ اللہ رب العالمین کے قائم کردہ تاریخی قانون کے تحت ہو رہے ہیں۔ خلافتِ راشدہ کی اصطلاح ایک سیاسی ادارہ کی حیثیت سے بعد کے دور میں وضع ہوئی۔ پیغمبر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader