اظہارِ دین
Urdu book, p. 432
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ تمام کام ایک لفظ میں، تحفظِ دین کے کام ہیں۔ امتِ مسلمہ نے اپنے ابتدائی تقریباً ہزار سال کے دوران اس کام کو کامل طور پر اور مستند طور پر انجام دے دیا۔ یہاں تک کہ اب یہ حال ہے کہ اسلام کا مستند ماخذ نہ صرف لائبریریوں میں موجود ہے، بلکہ پورا ذخیرہ انٹرنیٹ پر اس طرح محفوظ ہوگیا ہے کہ ایک شخص فنگر ٹپ (fingertip) کے استعمال سے ایک لمحے میں اس پورے ذخیرے تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ تائیدِ دین کے چارا ہم کام پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ، لَا يُدْرَى أَوْلُهُ خَيْرٌ أَمْ آخِرُهُ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3086)۔ یعنی، میری امت کی مثال بارش جیسی ہے، نہیں معلوم کہ اس کا اول زیادہ بہتر ہے یا اس کا آخر زیادہ بہتر ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، بارش کا اول اور آخر دونوں اپنے اپنے لحاظ سے بہتر ہوتا ہے۔ اس حدیث میں امت کے دو دور کا ذکر ہے— ابتدائی دور اور آخری دور، ایک پہلو سے امت کا ابتدائی دور بہتر ہے اور دوسرے پہلو سے اس کا آخری دور بہتر ہے۔ اس حدیثِ رسول میں دراصل امت کے بارے میں ایک پیشین گوئی کی گئی ہے جو کہ اب واقعہ بن چکی ہے۔ امت کے پہلے دور میں ایک طرف، دین کو محفوظ دین کی حیثیت دی گئی ہے اور دوسری طرف، اس دور میں ایک ایسا انقلاب برپا ہوا جس نے انسانی تاریخ میں ایک نیا پر اس جاری کر دیا۔ اس تاریخی پر اس کا آغاز امتِ مسلمہ نے کیا تھا، لیکن بعد کے زمانے میں یہ رول مشرق سے مغرب کی طرف منتقل ہوگیا۔ اس عمل (process) کے تکمیلی مرحلے میں جو چیزیں مطلوب تھیں، وہ زیادہ تر اہلِ مغرب کے ذریعے انجام پائیں۔ اس تاریخی عمل کا آغاز ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی میں امتِ مسلمہ کے ذریعے ہوا۔ اس کے بعد اہل مغرب نے اس معاملے میں تائیدی رول (supporting role) انجام دیا، جس کی تکمیل انیسویں اور بیسویں صدی میں ہوئی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader