اظہارِ دین
Urdu book, p. 431
By Maulana Wahiduddin Khan
ہو جاتا ہے۔ اس مرحلے پر پہنچ کر وہ تخلیقی فکر (creative thinking) سے محروم ہو جاتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو مذکورہ آیت (21:95) میں اَنَّھُمُ لَا یَرْجِعُونَ (ان کے لیے حرام ہے کہ وہ رجوع کریں) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اہل مغرب کا رول صحیح البخاری میں ایک روایت اِن الفاظ میں آئی ہے: اِنَّ اللَّہَ لَیُؤَیِّدُ ھٰذَا الدِّینَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ (حدیث نمبر 3062)۔ یعنی، اللہ ضرور اس دین کی تائید فاجر شخص کے ذریعے کرے گا۔ اس حدیث میں ’فاجر‘ کا لفظ غیر مومن کے معنی میں آیا ہے۔ آج کل کی زبان میں اس کو سیکولر انسان کہہ سکتے ہیں۔ اس روایت میں پیشین گوئی کی زبان میں یہ بات کہی گئی ہے کہ اللہ بعد کے زمانے میں ایسے سیکولر لوگوں کو اٹھائے گا جو خدا کے دین کے معاملے میں تائیدی کردار (supporting role) ادا کریں گے۔ تاریخی اعتبار سے غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہ تائیدی رول بالفعل عمل میں آچکا ہے۔ اب ضرورت صرف یہ ہے کہ اس کی معرفت حاصل کی جائے اور اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔ دومطلوب رول اصل یہ ہے کہ دین اسلام کے حاملین سے دو رول مطلوب تھا—ایک رول وہ ہے جس کو قرآن میں حفاظتِ دین (15:9) کہا گیا ہے۔ اور دوسرا وہ ہے جس کے لیے قرآن میں اظہارِ دین (48:28) کے الفاظ آئے ہیں۔ حفاظتِ دین سے مراد ہے دین کا قلمی یا کتابی تحفظ—قرآن کے اصل متن کا مکتوب حالت میں محفوظ ہو جانا، حدیث کا مدوَّن مجموعہ تیار ہو جانا، سیرتِ رسول اور سیرتِ صحابہ کا لکھی ہوئی حالت میں ریکارڈ ہو جانا، اسلام کا وہ دور جس کو قرون مشہود لھا بالخیر کہا گیا ہے، اس کو مستند تاریخ کی حیثیت دے دینا، اسلام کی بنیاد پر ایسے ادارے (مسجد، مدرسہ، حج کا نظام، وغیرہ) قائم ہو جانا جن کے ذریعے ابدی طور پر اسلام کو ایک اجتماعی بنیاد حاصل ہوجائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader