چار پہلو
Urdu book, p. 434
By Maulana Wahiduddin Khan
مطلوب کی ہے،لیکن اعلیٰ شکر، انعامات کی اعلیٰ معرفت ہی سے ہوسکتا ہے،اور یہ وہ کام ہے جو تاریخ میں پہلی بار اہل مغرب کے ذریعے انجام پایا۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک متعلق آیت یہ ہے: ؎وَآتَاكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ ۚ وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا ۗ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ (14:34)۔یعنی،خدا نے تم کو وہ سب کچھ دے دیا جو تم نے اُس سے مانگا۔اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گنو تو تم گن نہیں سکتے۔یقیناً انسان بہت ظالم اور بہت ناشکر گزار ہے۔ خالق نے انسان کو اس کی ضرورت کی تمام چیزیں بطور عطیہ دے دی ہیں۔یہ عطیات سب کے سب خدائی انعامات ہیں۔ان عطیات کی واقفیت سے اللہ کے لیے بے پناہ شکر پیدا ہوتا ہے۔یہ عطیات یا نعمتیں بے شمار ہیں،مگر قدیم زمانے میں انسان ان میں سے بہت کم عطیات کو جانتا تھا۔ایسی حالت میں وہ بڑا شکر نہیں کر سکتا تھا۔جدید مغربی سائنس نے فطرت میں چھپے ہوئے بے شمار نئے عطیات کو دریافت کیا اور جدید صنعت اور ٹکنالوجی کے ذریعے اس کو عام انسان کے لیے قابل حصول بنا دیا۔یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو اہل مغرب کے ذریعے پہلی بار انجام پایا۔اس طرح یہ ممکن ہوگیا کہ انسان اپنے رب کے لیے زیادہ بڑا شکر ادا کر سکے ـــ اہل مغرب کا یہ عطیہ بلاشبہ تائید دین کی ایک اعلیٰ مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ 3۔ اس سلسلے میں اہل مغرب کی تیسری دین (contribution) وہ ہے جس کو عالمی مواصلات کہا جاتا ہے۔اللہ تعالی کو یہ مطلوب تھا کہ اس نے اپنا پیغام جو پیغمبروں کے ذریعے بھیجا ہے،وہ تمام اہل عالم تک پہنچے۔اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: ؎تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَىٰ عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا (25:1)۔یعنی،بہت بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل کیا،تاکہ وہ تمام عالم کے لیے آگاہ کرنے والا ہو۔ یہی بات حدیث میں پیشین گوئی کی زبان میں اس طرح آئی ہے: لَا يَبْقَىٰ عَلَىٰ ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ كَلِمَةَ الْإِسْلَامِ (مسند احمد، حدیث نمبر 24215)۔یعنی،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader