چار پہلو
Urdu book, p. 435
By Maulana Wahiduddin Khan
زمین کی سطح پر کوئی گھر یا خیمہ نہیں بچے گا، مگر اللہ اس میں اسلام کا کلمہ داخل کردے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کو یہ مطلوب تھا کہ اُس نے پیغمبروں کے ذریعے جو ہدایت نامہ بھیجا ہے، وہ دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچے۔ مگر قدیم زمانے میں یہ عالمی پیغام رسانی ممکن نہ تھی۔ قدیم زمانے میں دعوت الی اللہ کا کام عملاً صرف مقامی طور پر ہوا، وہ عالمی طور پر انجام نہ پاسکا۔ موجودہ زمانے میں پہلی بار وہ ذرائع اور وسائل وجود میں آئے ہیں جن کو استعمال کرکے کرۂ ارض کے ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں اللہ کا پیغام پہنچ جائے، زمین پر بسنے والا کوئی بھی انسان اِس سے بے خبر نہ رہے۔ یہ ذرائع اور وسائل خالق نے فطرت (nature) کے اندر بڑے پیمانے پر رکھ دیے تھے، مگر قدیم زمانے میں ان ذرائع اور وسائل کو دریافت کرنا ممکن نہ ہوسکا۔ اہل مغرب نے پہلی بار ان کو دریافت کیا اور ان کو صنعتی مصنوعات (industrial products) کی صورت دے کر داعیوں اور مبلغوں کے لیے قابل حصول بنادیا۔ قدیم زمانے میں اقوام کی تنظیم (international organisation) کا تصور نہ تھا ۔ قدیم زمانے میں صرف سیاسی تنظیم (political organisation) کا تصور تھا، جو کسی بڑی سلطنت کے تحت بذریعہ طاقت قائم ہوتا تھا۔ اس تصور کے تحت قدیم زمانے میں وہ نظریہ وضع ہوا جس کو جنگ برائے امن (war for peace) کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں پہلی بار یہ واقعہ پیش آیا ہے کہ اقتدار کے باہر اصول کی بنیاد پر قوموں کی تنظیم قائم کی جائے جو بین اقوامی معاملات میں اقتدار کے استعمال کے بغیر پر امن طور پر فیصلہ کن رول ادا کرسکے۔ قدیم زمانے میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ امن صرف سیاسی اقتدار کے ذریعے قائم ہوتا ہے۔ اس تصور کا نتیجہ یہ تھا کہ قدیم زمانے میں ہزاروں سال تک ساری دنیا میں جنگوں کا سلسلہ جاری رہا۔ یہ طریقہ خدا کے تخلیقی منصوبے کے خلاف تھا۔ خدا کے تخلیقی منصوبے کا تقاضا ہے کہ قوموں کے درمیان پرامن تعلق ہوں، تاکہ دعوت اور تعلیم جیسا تعمیری کام کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader