Urdu book · اظہارِ دین

چار پہلو

Urdu book, p. 436

By Maulana Wahiduddin Khan

اس لیے اسلام میں یہ مطلوب تھا کہ بین الاقومی امن کو سیاسی اقتدار سے الگ کر دیا جائے ۔ بین اقوامی امن کو معاہدات کی بنیاد پر قائم کیا جائے، نہ کہ سیاسی اقتدار کی بنیاد پر ۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے زمانے میں جو انقلاب آیا، اُس کا ایک پہلو یہ بھی تھا ۔ اُس زمانے میں پہلی بار ایسا ہوا کہ معاہدات کی بنیاد پر بین الاقوامی امن کا قیام عمل میں آیا ۔ یہ معاہدہ حدیبیہ تھا جو 628 عیسوی میں تشکیل پایا۔ اس معاہدہ امن میں براہِ راست طور پر اہل مدینہ اور اہل مکہ شامل تھے، لیکن بالواسطہ طور پر یہود بھی اس میں شامل تھے جو کہ اُس وقت مدینہ کی آبادی کا تقریباً نصف حصہ تھے۔ تاریخ کا یہ پہلا بین اقوامی معاہدہ امن تھا جو اس لیے کیا گیا کہ قومی تعلقات کو جنگ کے بجائے امن کی بنیاد پر قائم کیا جائے ۔ معاہدہ حدیبیہ صرف ایک واحد واقعہ نہ تھا، وہ تاریخ میں ایک نئے دور امن کا آغاز تھا۔ اس کے بعد تاریخ میں ایک نیا عمل شروع ہوا، جو سفر کرتے ہوئے یورپ تک پہنچا۔ چنانچہ 1920 میں جنیوا (سوئزرلینڈ) میں ایک بین اقوامی ادارہ قائم کیا گیا جس کا نام جمعیت اقوام (League of Nations) تھا۔ اس جمعیت میں کل 63 قومیں شامل تھیں، البتہ امریکا اس میں شامل نہ تھا۔ یہ تنظیم مستقل ثابت نہ ہوسکی، یہاں تک کہ 1946 میں باقاعدہ طور پر اس کے خاتمے کا اعلان کر دیا گیا ۔ اس کے بعد اس مقصد کے لیے 1945 ء میں اور زیادہ بڑی تنظیم قائم ہوئی۔ اس کا نام تنظیم اقوام متحدہ (United Nations Organisation) تھا۔ اس دوسری تنظیم میں 193 ممالک شامل ہیں۔ اس کا صدر دفتر نیو یارک (امریکا) میں ہے۔ یہ ایک غیر سیاسی تنظیم ہے۔ وہ امن کے میدان میں زیادہ مؤثر رول ادا کر رہی ہے ۔ یہ واقعہ بھی انھیں واقعات میں سے ہے جس کا ذکر ”تائیدِ دین“ کے طور پر کیا گیا ہے، اس واقعے کو دوسرے الفاظ میں، دورِ شمشیر کو ختم کر کے عملادورِ امن کو لانا کہا جاسکتا ہے۔ بین اقوامی تعلقات میں یہ تبدیلی عین اسلام کے حق میں ہے۔ یہ واقعہ اُس تاریخی عمل (historical process) کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page