Urdu book · اظہارِ دین

کائناتى معنویت کی توجیہ

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

ان میں سے ایک ماڈرن میٹریل ازم (modern materialism) ہے۔ میٹریل ازم ایک فلسفہ بھی ہے، اور ایک کلچر بھی۔ عملی طور پر دیکھیے تو میٹریل ازم کا خلاصہ یہ ہے کہ۔ اپنی آرزوؤں کی جنت کے حصول کے لیے اب اس کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں کہ اگلی دنیا (آخرت) برپا ہو اور وہاں خدا اپنی خصوصی عنایت کے طور پر ہمیں جنت عطا کرے۔ اب ہم کو وہ سبب معلوم ہوگیا ہے جس کے ذریعے اسی دنیا میں جنت کی تعمیر ممکن ہے، یہ سبب جدید ٹکنالوجی ہے۔ چنانچہ جدید ٹکنالوجی اور جدید انڈسٹری کے ذریعے اس جنت ارضی کی تعمیر کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ مادّیت (materialism) کے نام سے ایک پوری تہذیب ظہور میں آگئی۔ آج کا انسان، خدا سے غافل ہو کر اس تہذیب ی جنت کے حصول کے لیے ٹوٹ پڑا۔ جدید انداز کے مکانات اور جدید انداز کے شہر اور جدید انداز کا لائف اسٹائل ہر طرف وجود میں آنے لگا۔ تہذیب جدید کے تحت اس مادی جنت کی تعمیر ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ بعد کی تحقیقات نے خود اُس کی تعمیر ہی کو سرے سے ناممکن ثابت کر دیا۔ طبیعیاتی سائنس نے مزید مطالعے کے بعد بتایا کہ ہماری دنیا میں ضابطہ ناکارگی (law of entropy) نافذ ہے۔ اس کے تحت، دنیا مسلسل طور پر خاتمے کی طرف جارہی ہے، اور ایک دن آئے گا جب کہ وہ مکمل طور پر ختم ہوجائے۔ اکیسویں صدی میں پہنچ کر اس میں مزید اضافہ ہوا۔ اب معلوم ہوا کہ خاتمے کی یہ مدت بہت قریب آگئی ہے۔ عین ممکن ہے کہ صرف پچاس سال کے اندر وہ تمام ذرائع اور وسائل بالکل تباہ ہوجائیں، جن کی مدد سے مفروضہ مادی جنت تعمیر کی جارہی تھی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ عنقریب وہ اسباب ہی ختم ہو جائیں گے، جن کی بنیاد پر مادی جنت کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ 2۔ اس معاملے کی ایک مثال ڈارون ازم (Darwinism) ہے۔ پچھلے ہزاروں سال سے انسان یہ مانتا چلا آرہا تھا کہ انواع حیات، بہ شمول انسان، کو پیدا کرنے والا خدا ہے۔ یہ خداوند عالم ہے جو براہِ راست اپنی تخلیق کے ذریعے تمام انواع حیات کو وجود میں لاتا ہے۔ مگر چارلس ڈارون نے مفروضہ طور پر یہاں بھی ایک ’’سبب‘‘ کو دریافت کر لیا، جو مختلف انواع حیات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page