کائناتى معنویت کی توجیہ
Urdu book, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
کو وجود میں لانے کا ذمے دار تھا۔ یہ سبب، ڈارون کے الفاظ میں، نیچرل سلیکشن ( natural selection) تھا، یعنی حیاتیاتی عمل کے دوران طبیعی اسباب کے تحت مختلف انواعِ حیات ظہور میں آتی چلی گئیں۔ گویا کہ انواعِ حیات، یا انسان کو وجود میں لانے والا عنصر ایک مادی سبب (material cause) ہے، نہ کہ غیر مادی خدا۔ ڈارون کا دریافت کردہ یہ سبب (cause) کبھی بھی علمی اعتبار سے ثابت شدہ نہ تھا، وہ صرف ایک مفروضہ تھا۔ مزید یہ کہ خود علماء حیاتیات اس کو ایک ثابت شدہ نظریے کے بجائے صرف ایک کام چلاؤ نظریہ (workable theory) کا درجہ دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ خود چارلس ڈارون کو اپنے اس دریافت کردہ مفروضہ پر آخری عمر میں شک پیدا ہو گیا تھا، چنانچہ وہ مایوسی کی حالت میں مرا۔ اس واضح منطقی خامی کے باوجود، ڈارون کے نظریے کو جدید علمی حلقوں میں عمومی مقبولیت (general acceptance) کا درجہ حاصل ہو گیا۔ حتیٰ کہ آج بھی یہ غیر ثابت شدہ نظریہ تمام دنیا کی یونی ورسٹیوں میں پڑھایا جاتا ہے۔ 3۔ اسی کی ایک مثال مارکس ازم (Marxism) بھی ہے۔ کارل مارکس (وفات 1883) نے سماجی معاشیات (social economy) کے معاملے میں بھی اسی مفروضہ اصول کو منطبق کیا۔ بطورِ خود اس نے اُس سبب (cause) کو دریافت کیا جس کے تحت، انسانی سماج کے اندر انقلابی تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور سماج ایک خود کار مادی عمل کے تحت، ایک حالت سے ترقی کر کے دوسری حالت تک پہنچ جاتا ہے۔ کارل مارکس نے اس سبب کو تاریخی ناگریریت (historical determinism) یا جدلیاتی مادیت (dialectical materialism) کا نام دیا۔ اُس نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ سماج کے اندر ناگزیر داخلی اسباب کے تحت، دو طبقے (classes) پیدا ہوتے ہیں۔ تاریخی اسباب کے تحت، ان طبقوں کے درمیان ٹکراؤ پیش آتا ہے، اس کے بعد ایک طبقہ مٹ جاتا ہے اور دوسرا طبقہ اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ اس طرح داخلی اسباب کے تحت، انسانی سماج ترقی کرتا رہتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader