Urdu book · اظہارِ دین

جنتی افراد، جنتی معاشرہ

Urdu book, p. 443

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ ایک مسلمہ واقعہ ہے کہ ان حضرات کی کوششیں پورے انسانی مجموعہ یا نظام کی سطح پر بھی معیاری معنوں میں کامیاب نہیں ہوئیں ، البتہ افراد کی سطح پر وہ ہمیشہ کامیاب ہوئیں۔ ہر زمانے میں اور ہر کوشش کے ذریعے ایسے افراد وجود میں آئے جو پورے معنوں میں عارف باللہ تھے، جنھوں نے اپنی ذات کے اعتبار سے اللہ کو اپنا کنسرن بنایا ، جو اللہ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے تھے اور جو اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والے بھی۔ اس تاریخی تجربے کا تقاضا ہے کہ خالق کے منصوبہ تخلیق کی کامیابی کا معیار پورے مجموعہ انسانی (mankind) کو قرار نہ دیا جائے، بلکہ اس کی کامیابی کا معیار افراد کو قرار دیا جائے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو خالق کا منصوبہ تخلیق آخری حد تک کامیاب نظر آئے گا۔ آدم سے قبل جنات پیدا کیے گئے تھے (15:27) ۔ جنات کی بڑی اکثریت اگر چہ سرکش بن گئی ، لیکن قرآن کے مطابق ، اُن میں شخصی اعتبار سے اعلیٰ درجے کے صالح افراد بھی پیدا ہوئے (72:11)۔ اس طرح انبیا کے زمانے میں اگر چہ یہ ہوا کہ انبیاء کے مخاطبین کی بڑی اکثریت منکر بنی رہی ، لیکن انھیں کے درمیان یہ واقعہ بھی ہوا کہ شخصی اعتبار سے اعلیٰ درجے کے صالح افراد پیدا ہوتے رہے۔ اسی طرح ختم نبوت کے بعد دُعاۃ (داعیوں) کی کوششوں کے ذریعے بھی یہ واقعہ پیش آیا کہ اگر چہ نظام یا مجموعہ انسانیت کی سطح پر کبھی کامل معنوں میں صالح انقلاب نہیں آیا، لیکن شخصی سطح پر ہر دور میں بلا شبہ ایسے افراد پیدا ہوتے رہے جو عارف باللہ کا درجہ رکھتے تھے۔ اسلام کے مطابق ، انسانی زندگی کے دو دور ہیں ، قیامت سے پہلے اور قیامت کے بعد۔ قیامت سے پہلے کا دور برائے امتحان ہے اور قیامت کے بعد کا دور برائے انجام ۔ یہ دونوں دور خالق کائنات کے مقرر کیے ہوئے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ دونوں دور یکساں طور پر پوری طرح کامیاب دور ہوں۔ یہ خالق کے منصوبہ تخلیق کا کمتر اندازہ (underestimation) ہوگا کہ کامیابی کے اعتبار سے دونوں دوروں میں فرق کیا جائے۔ اس اصول کو ملحوظ رکھتے ہوئے دونوں دوروں کی بہترین تو جیہ یہ ہے کہ پہلے دور کو انتخاب افراد کا دور (period of individual selection)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page