جنتی افراد، جنتی معاشرہ
Urdu book, p. 442
By Maulana Wahiduddin Khan
جنتی افراد، جنتی معاشرہ قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (51:56)۔ یعنی، میں نے جن اور انس کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ صحابی مفسر عبد اللہ بن عباس نے اس آیت میں ’لیعبدون‘ کی تشریح ’لیعرفون‘ سے کی ہے، یعنی جنات اور انسان کی پیدائش کا مقصد یہ ہے کہ وہ اللہ کی معرفت (realization) حاصل کریں۔ معرفت کا تعلق فرد سے ہے۔ کیوں کہ یہ ایک فرد ہی کا ذہن ہے جو اس موضوع پر غور وفکر کرتا ہے اور پھر اس کا ذہن اُس فکری واقعے کا تجربہ کرتا ہے جس کو معرفت کہا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ خالق کے منصوبے کے مطابق ، تخلیق کا نشانہ یہ ہے کہ ایسے افراد پیدا ہوں جو عارف باللہ کا درجہ رکھتے ہوں۔ اس کے مطابق، تخلیق کا نشانہ افراد ہیں، نہ کہ کوئی مجموعہ یا نظام۔ تخلیق کا نشانہ وہی چیز ہوسکتی ہے جو فی الواقع قابل حصول ہو۔ اس پہلو سے انسانی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہر دور میں بلا شبہ ایسے افراد پیدا ہوئے جو عارف باللہ (realized person) کی حیثیت رکھتے تھے۔ اس کے برعکس، اگر مقصد تخلیق کو اجتماعی معنوں میں لیا جائے، مثلاً صالح معاشرہ بنانا، عادلانہ نظام کی تشکیل، عالمی سطح پر حکومتِ الہیہ کا قیام، زندگی کے تمام شعبوں میں شرعی قوانین کا نفاذ، وغیرہ۔ اس طرح کے اجتماعی انقلاب کو بر پا کرنا اگر تخلیق کا نشانہ ہو، تو وہ پوری تاریخ بشری میں کبھی معیاری معنوں میں وقوع میں نہیں آیا، نہ انبیاء کے زمانے میں اور نہ انبیاء کے زمانے کے بعد۔ آدم کی تخلیق سے لے کر اب تک انسانی تاریخ پر بہت لمبا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس پوری مدت میں، انبیاء یا پیروان انبیاء کے ذریعے مسلسل طور پر یہ کام ہوتا رہا کہ تخلیق کا منصوبہ پورا ہو۔ یہ لوگ اللہ کے نمائندے تھے اور اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنے نمائندوں کی ضرور مدد کرتا ہے، نہ صرف آخرت میں بلکہ موجودہ دنیا میں بھی (40:51)۔ اس طرح کی قرآنی آیات کی روشنی میں ہم کو یہ ماننا ہوگا کہ انبیاء اور اُن کے پیروؤں کا مشن یقینی طور پر کامیاب ہوا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader