اظہارِ دین
Urdu book, p. 449
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ بیٹے کے بجائے ایک دنبہ ذبح کر دیں اور بیٹے کو لے جا کر صحرا میں اُس مقام پر بسادیں، جہاں آج مکہ آباد ہے۔ اس واقعے کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: وَفَدَيْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ (37:107) یعنی ہم نے چھڑا لیا اسماعیل کو ایک بڑے ذبیح کے بدلے۔ یہاں بڑے ذبیح سے مراد صحرا کے غیر متمدن اور بے آب و گیاہ ماحول میں آباد ہونا تھا، جو کہ جسمانی ذبیحہ سے بلا شبہ بہت زیادہ سخت تھا۔ اس آیت میں ذبحِ عظیم (عظیم قربانی) کا لفظ اسماعیل کے لیے آیا ہے، نہ کہ دنبہ کے لیے۔ دنبہ کو حضرت ابراہیم نے بطور فدیہ ذبح کیا اور اسماعیل کو ایک عظیم تر قربانی کے لیے منتخب کر لیا گیا۔ یہ عظیم تر قربانی کیا تھی، وہ یہ تھی کہ اس کے بعد اسماعیل کو اپنی ماں ہاجرہ کے ساتھ مکہ کے صحرا میں آباد کر دیا گیا، تا کہ اُن کے ذریعے سے ایک نئی نسل تیار ہو۔ اُس وقت یہ علاقہ صرف ایک بے آب و گیاہ صحرا کی حیثیت رکھتا تھا۔ وہاں اسباب حیات میں سے کوئی چیز موجود نہ تھی، اِس لیے اس معاملے کو قرآن میں ذبحِ عظیم کا درجہ دیا گیا۔ احسن القصص قرآن کی سورۃ یوسف میں پیغمبر یوسف علیہ السلام کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ اس واقعے کو قرآن کا احسن القصص (12:3) بتایا گیا ہے۔ احسن القصص کا لفظی مطلب ہے ـــ بہترین قصہ (best story) مگر قرآن میں یہ بات قصہ برائے قصہ کے طور پر نہیں آئی ہے، بلکہ وہ ایک اہم سبق (lesson) کے طور پر آئی ہے۔ ہر پیغمبر کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ حق کا داعی ہوتا ہے۔ اسی کے ساتھ وہ دعوت کا عملی نمونہ ہوتا ہے۔ مختلف پیغمبر مختلف حالات میں آئے۔ اس لحاظ سے یہ ہوا کہ مختلف پیغمبروں کے ذریعے مختلف قسم کی عملی مثالیں قائم ہوئیں۔ اُنھیں میں سے ایک مثال یا ماڈل وہ ہے جو حضرت یوسف کے ذریعے قائم ہوا۔ حضرت یوسف کنعان (فلسطین) کے علاقے میں ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو مصر جیسے متمدن ملک کے دارالسلطنت میں پہنچا دیا، جہاں ایک بادشاہ کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader