Urdu book · اظہارِ دین

احسن القصص

Urdu book, p. 450

By Maulana Wahiduddin Khan

حکومت قائم تھی۔ ایسا غالباً اس لیے ہوا کہ حضرت یوسف کے ذریعے دعوت کی جو مثال قائم کرنا مطلوب تھا، وہ مصر جیسے ملک ہی میں ممکن تھی۔ حضرت یوسف کے اس واقعے کی تفصیل قرآن میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس کا اہم پہلو یہ ہے کہ اُس وقت کے مصری بادشاہ نے حضرت یوسف کی صلاحیتوں سے متاثر ہو کر اُنھیں ایک اعلیٰ عہدے کی پیش کش کی۔ اس پیش کش کو حضرت یوسف نے قبول کرلیا۔ جیسا کہ معلوم ہے، یہ بادشاہ اپنے مذہبی عقیدے کے اعتبار سے مشرک تھا۔ مزید یہ کہ سیاسی تخت بھی بدستور اُس کے قبضے میں تھا۔ اِس کے باوجود حضرت یوسف نے بادشاہ کے تحت ملنے والے اِس عہدے کو قبول کرلیا۔ قرآن کے مطابق، اِس کا سبب یہ تھا کہ خزائن ارض پوری طرح حضرت یوسف کو حاصل ہو رہے تھے۔ قدیم زمانے کے لحاظ سے، خزائن ارض کا مطلب تھا - سرزمین مصر کا زراعتی انتظام۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ بھی ایک مطلوب پیغمبرانہ ماڈل ہے کہ داعی اگر ایسے ملک میں ہو، جہاں سیاسی اقتدار (political power) کسی اور کے ہاتھ میں ہو، لیکن یہ امکان ہو کہ اگر داعی حق دوسرے کے سیاسی اقتدار کو تسلیم کرلے تو اس کو کام کے مواقع بلا روک ٹوک حاصل ہوجائیں گے، تو اُس وقت حکمت کا تقاضا یہ ہوگا کہ ایسی پیش کش کو کھلے دل سے قبول کرلیا جائے۔ حضرت یوسف کے ساتھ یہ معاملہ اُس دور میں پیش آیا، جب کہ دنیا میں ہر جگہ زراعت کا دور (agricultural age) پایا جاتا تھا۔ کام کے مواقع تمام تر زراعت کے ساتھ وابستہ تھے۔ اُس وقت خزائن ارض کا مطلب تھا - خزائنِ زراعت ۔ اب زمانہ بدل چکا ہے۔ اب ہم جمہوریت کے دور میں ہیں۔ اب سیاست کا ڈی سنٹرلائزیشن (de-centralization) ہو چکا ہے۔ اب نظام (administration) کے سوا تمام شعبے ہر ایک کے لیے آزادانہ طور پر کھلے ہوئے ہیں۔ ایسی حالت میں حضرت یوسف کا ماڈل موجودہ حالات میں مکمل طور پر قابل انطباق (applicable) ہے۔ آج اگر داعی حق، سیاسی حکمرانوں سے ٹکراؤ نہ کرے تو کسی باضابطہ اعلان یا معاہدہ کے بغیر ہی تمام خزائن ارض، بہ الفاظ دیگر، تمام مواقع کار آزادانہ طور پر داعی کے زیر تصرف آجائیں گے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page