Urdu book · اظہارِ دین

لوحِ محفوظ

Urdu book, p. 458

By Maulana Wahiduddin Khan

محفوظ کے الفاظ میں قرآن کے اسی مخصوص حفاظتی انتظام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس کی تدبیر یہ کی گئی کہ اولاً قرآن کا معیاری متن (standard version) علم الہیٰ یا بہ الفاظ دیگر، ملائے اعلیٰ میں محفوظ کر دیا گیا اور پھر تاریخ کے لیے مقدر کر دیا گیا کہ وہ اس معاملے میں اسی رخ پر سفر کرے۔ چنانچہ عملًا یہی ہوا۔ اولاً یہ ہوا کہ ساتویں صدی کے نصف اول میں قرآن کو حافظے سے کتابت کی صورت میں محفوظ کیا گیا۔ ہزاروں لوگوں نے نسل در نسل یہ کیا کہ قرآن کو نہ صرف یاد کر کے اپنے حافظے میں ریکارڈ کر لیا، بلکہ اسی کے ساتھ وہ قرآن کے کتابت شدہ نسخے برابر تیار کرتے رہے۔ اس طرح وہ ایک نسل سے دوسری نسل تک مکتوب قرآن کو پہنچاتے۔ یہی وہ معاملہ ہے جس کی طرف قرآن میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (96:4)— یعنی، جس نے علم سکھایا قلم سے۔ تعلیم بالقلم کا یہ عمل اس طرح مسلسل تقریباً ہزار سال تک جاری رہا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ انسانوں کو یہ توفیق دی کہ وہ طباعت کے آلات ایجاد کریں۔ اس فن کے ارتقا میں بہت سے انسانوں نے کام کیا۔ آخر کار جرمن گولڈ سمتھ جو ہانس گوٹن برگ (وفات 1468) اس میں کامیاب ہو گیا کہ وہ ایک قابل عمل طباعتی آلہ دریافت کرے ۔ اس دریافت کے بعد تاریخ میں ایک پرنٹنگ انقلاب (printing revolution) آیا جو تیزی سے ترقی کرتے ہوئے موجودہ اعلیٰ طباعتی مشین (printing press) تک پہنچا۔ لوح محفوظ کے الفاظ میں اسی تاریخ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ قرآن کا نزول 610 عیسوی میں شروع ہوا۔ اس کی تکمیل تقریباً 23 سال میں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کی خصوصی توفیق سے استثنائی طور پر یہ واقعہ پیش آیا کہ خدا کے نزدیک، قرآن کا جو معیاری متن (standard version) تھا، وہ ادنیٰ تغیر کے بغیر پہلے انسانی حافظے میں ریکارڈ ہوا، پھر ادنیٰ تغیر کے بغیر کتابت کے ذریعے اس کی جلدیں بنائی گئیں، پھر تاریخ میں ایک پر اس اس جاری ہوا جس کے نتیجے میں پرنٹنگ پریس کا دور آگیا۔ پرنٹنگ پریس کے زمانے میں یہ ممکن ہو گیا کہ قرآن کا ایک نسخہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page